تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 153 of 736

تحدیث نعمت — Page 153

۱۵۳ صاحب اپنی افتاد طبیعت سے محبوبہ نہایت آزادانہ طور پر اپنے خیالات کا اظہار فرماتے۔بعض دفعہ ان کا موقف صدر صاحب انجمن کے موقف کے موافق نہ ہوتا اور سید صاحب کا طرز بیان صدر صاحب کی طبع یہ ناگوا نہ ہوتا اور وہ اس کا اظہارہ ایسے طور پر کرتے کہ سید صاحب کی طبع ناندک پیر گراں گزرتا۔آخر انہوں نے یہی مناسب سمجھا کہ ان دو نا موافق اور متضاد رشتوں میں سے ملانہ مت کے رشتہ کو قطع کردیا جائے۔چنانچہ انہوں نے اپنا استعفے تیار۔کیا۔اگر صرف استعفے داخل کرنا مقصود ہوتا تو دو سطروں میں لکھا جا سکتا تھا۔لیکن یہ استعفی چونکہ اعلان آنہ ادمی تھا اسلئے اس میں تمام وسجدہ شرح وبسط سے درج کی گئیں اور بلدیہ کی تمام سرگرمیوں ، نامیوں ، غفلتوں ، خطا کاریوں پر مسبوط اور نمک پاش تبصرہ کیا گیا اور ناب صدر بلدیہ بھی تنقید سے نہ بچ سکے۔بلدیہ کی مجلس میں نہ یہ صدارت نائب صدر صاحت جب یہ وستاد یہ تمام و کمال پڑھ کر سنائی گئی تو مجلس نے بلا تامل اور بالاتفاق سید صاحب کا استعفی نا منظور کیا اور سید صاحب کو یہ مجرم گستاخی ملازمت سے علیحدہ کرنے کا حکم صادر کر کے سید صاحب کی محوریت ادبی قابلیت اور ندرت پر مہر تصدیق ثبت کردی، استعفے کی دستا ویہ کے آخری الفاظ یہ تھے۔بایں وجوہ۔نہیں ہوتی بندے سے طاعت زیادہ۔بین خانہ آباد دولت زیادہ " سید صاحب ملازمت کی قیود سے آزاد ہوئے تو لاہور کی آمد ورفت کے لئے بھی وقت میسر آنا آسان ہو گیا ، سید افضل علی صاحب کے ساتھ ان کا گہرا دوستانہ تھا۔میرے ساتھ بھی رشتہ اخوت و عقیدت مضبوط ہوتا جا رہا تھا۔جب میں نے بیٹے کے سفر کا ذکر کیا تو کمال شوق سے نیا نہ ہو گئے۔پٹنہ ہائی کورٹ | پٹنہ پہنچتے ہی سید وزارت حسین صاحب سے ملاقات ہوئی ڈاک بنگلے میں میں قیام ہوا۔اس کے عین مقابل منظہر الحق صاحب کا بنگلہ تھا۔ڈاک بنگلے میں پہنچ کر ہیوسٹیشن کے بالکل قریب تھا سید وزارت حسین صاحب سے مقدمے کے کوائف معلوم کئے۔سید صاحب قانون پیشہ نہیں تھے لیکن انکی مقدمہ کی تیاری نہایت مکمل تھی۔انہوں نے بڑی احتیاط اور ترتیب سے واقعات تنقیحات، فقمی او به قانونی مسائل، کتب فقہیہ، قانونی دلائل اور نظائر کا مرقع تیار کر لیا تھا، ماتحت عدالتوں کے فیصلے پڑھنے کے بعد جو بت بھی میں دریافت کرتا اس کا مکمل اور شافی جواب فورا مہیا فرما دیتے۔ان کی نوٹ بکس میں تمام امور کا خلاصہ اور ضروری حوالہ جات نہایت خوش خط با ترتیب درج تھے۔ایک گھنٹے کے اندر اندر مقدمے کے تمام پہلو لفضل اللہ صفائی سے میرے ذہن