تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 659 of 736

تحدیث نعمت — Page 659

409 *+ تھا۔سفر کے دوران میں ہوائی جہان میں لندن ٹائمز میں سرخی دیکھی تانگانیکا کی وزارت میں تبدیلیای فرمایشی عمران عبیدی صاحب کا خواب یاد آیا اور بڑے شوق سے خبر کی تفصیل پڑھی۔پچھ سات وزارتوں میں تبدیلی کا اعلان تھا۔اعلان کے مطابق شیخ عمر عبیدی صاحب کو وزیر المان مفقر کیاگیا تھا۔میںنے مبارکباد کا لکھا اور کہاکہ یہ آپ کے خواب کی تعبرے ہوں ے جواب میں لکھاکہ چودھری محمد ر ی مر گیا نے بھی بی بی کی ہے میرا نا انداز یہ تھا میرے پر کوئی ایسی خدمت کی جائے گی جس کا مقصد سواحلی زبان کو رواج اور دست دنیا ہو سکی ایک زن می میرا اندازہ بھی صیح ثابت ہواہے کیونکہ خان صدر نے میرے ساتھ مرے منصب کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا اس وزارت کا کام تو ایسا او بل نہیں ہے امید ہے آپ ساتھ ساتھ سواحیلی زبان و فروغ دینے کی طرف بھی توجہ کریں گے۔اقوام متحدہ کی املی کے اٹھارویں سالانہ اجلاس میں شیخ عمر عبیدی قاب تنزانیہ کے دن کے رئیس تھے۔دوران اجلاس میں املی میں بھی اور ا سمبل سے باہر بھی ملاقات کے مواقع میسر آتے رہے اس تبہ ہم بھی نہ تھاکہ یہ آخری ملاقاتیں ہیں۔کچھ رصد تار میں افریقی ملک کے سربراہوں کی کانفرنس ہوئی مشیخ عمری عیدی صاحب صدر نا ریے کے ہمراہ اسکا نفرنس میں شرکت کیئے تاہر تشریف لے گئے۔وہیں بیاہ ہوگئے۔صدر ان ٹریرے نے بہترین علاج کی خاطر جرمنی کے دارالحکومت کو بھجوا دیا۔مرض کی علامات کچھ ایسی سنجیدہ منفی ریختہ تشخیص تو نہ ہوسکی لیکن غالب قیاس تھا کہ خوراک کی خرابی مرض کا اصل باعث ہے۔بون سے دو محبت نامے اپنے ہاتھ سے لکھے ہوئے مجھے ارسال فرمائے۔دوس سے محبت نامے کے ملنے کے چند دن بعد پیشتر اس کے کہ میرا جواب انکی خدمت میں پہنچے تنزانیہ کا یہ مہر تاباں قبل از وقت ہی غروب ہو گیا۔اناللہ وانا اليه راجعون غفر الله له و جعل الجنة العليا مثواه۔۔۔گرچه جنس نیکوان این چرخ بسیار آورد یه کم برائید یا د دری با این صفا د تر میتیسیم اے خدا به تربیت او بارش رحمت بسیار به داخلش کن انر کمال فضل در بیت النعيم انے کی اور اپنی تو ملکہ تمام شرقی افریقہ می شیخ عمر عبیدی کو جوعزت کا مقام حاصل تھا اس کا اندازہ اس واقد سے ہو سکتا ہے کہ جب اس نوجوان شہید قوم وملت کا جنازہ قبرستان کی طرف روانہ ہوا تو اس کے تابوت کو اٹھانیوالوں ی در ترا نین ولی نائی ہے، وزیراعظم کیا جوینیا اور اکراو وے وزیراعظم یوگنڈا شامل تھے۔یوگنڈا دارالاسلام ہمارا اور گرم کیا کہ جانے کا تھاجس کے لئے مانگا نیا کی حکومت کی طرف سے ایک ESA ہوائی جاز مہیا کر دیا گیاجس میں یہ سفر آرام و رفت سے طے ہوا میرا مال خر رند کو دیکھنے میں ان کی حیثیت ایک راتی اڈرن گھوڑے سے زیادہ معلم نہیں ہوتی تھی لیکن پروانہ نہایت پرسکون اور محور تھی۔پائلٹ ایک ٹور مین صاحب تھے چونکہ میرے علاوہ اور کوئی ساغر نہ تھا۔میری نشست ان کے قریب تھی لیکن انکی توجہ اپنے کام کی طرف تھی اور می اپنے خیالا میں مونا جب جہاز نے وکٹوریہ نیا ز کے اوپر پر از شور کیا کہ یہ بھی ایک چھوٹا سا سمندر ی ہے توقیری