تحدیث نعمت — Page 660
ترویجہ ارد گرد کے منظر نے اپنی طرف کھینچ لی۔ساتھ میں ایک ایک بادل تھا یا ہوا تیز ہوگی اور اولوں کا طوفان شروع ہو گیا۔اوے زور سے طیارے کی چھت سے ٹکراتے تھے یوں محسوس ہوتا تھا کہ آسمان سے چاند ماری ہورہی ہے۔میںنے تسبیح وتحمید ور ان کی اللہ تعالی کا یک فضل اور اسکی کسی قدرت ہے کہ طوفان کی شدت میں ایک چھوٹا طیارہ بالکل ہموار انی منزل کی طرف پوری رفتار سے محو یہ دانہ ہے۔طیارے نے بلندی سے اترنا شروع کیا ساتھ ہی مطلع بالکل میان ہو گیا جھیل ادارہ نور نے ہمارے اڑن کھٹولے نے ایسے سکون و اطمینان سے کل کے ساتھ معائنہ کیا جسے ایک یہ کھیل کود سے توجہ شاکر ماں کی گود میں بیاہ لتا۔میں پناہ لیتا ہے۔فالحمد للہ۔** کمالہ کا مطار انٹے ہے میں ہے جو کمیا لہ سے ۲۵ میل کے فاصلے پر ہے۔ان دنوں یوگنڈا کے گورنر جنرل کی یاش انٹے ہے میں تھی اور حکم کے چند دنا تم بھی وہیں تھے لیکن ایران پاریمنٹ اور حکومت کے اکثر نا ر کیا لڑیں تھے طار ہ گورنہ جنرل کے سیکرٹری اور ڈاکٹر لعل دین احمد صاحب معر حجاب جماعت اور چند دیگر معزی موجود تھے۔گورنر جنرل کے سیکریٹری نے گورنر جنرل صاحب کی طرف سے نوش آمدید یا در میام دیاکہ ہم نے تو تمہاری رہائش کا انتظام پنے ہاں کیا تھا لیکن ڈاکٹر لعل دین احمد صاحب مصرمیں کہ تم ان کے ہاں ٹھہر راب جیسے تم چاہو فیصلہ کرو۔میں نے گورنر صاحب کی خدمت میں بعد شکریہ کہلا بھیجاکہ ڈاکٹر لعل دین احمد کے ساتھ میرے برادرانہ تعلقات قریب نصف صدی سے ہیں۔ان کا دولت خانہ میں لے لیا ہے جسے اپنا گھر مزید برا مجانا زیادہ کیا میں گزارنا ہوگا اس لحاظ سے بھی کیالہ یں ٹھہرنا سہولت کا موجب ہوگا۔میں آپ کی سہولت مطابق آپ کی خدامی نیاز حاصل کرنےکےلئے حاضر ہوں گا بسیاری صاحب نے یا آپ کافیصلہ ہو کہ کیا میں ٹہرنے کا لانا اور یہ جو صحت کی اور آپ کے قیام کے عرصے میں آپکی ہے قام پر حاضر ہے کیا اور گور نہ منزل صاحب کو بہت خوش ہو گی اگرآپ کا کھانے پر تشریف لائیں۔میں نے ان کی تواضع کا کریہ ان کی مدت میں ایسا کر دیا۔ڈاکر عمل دین احمد اب کے بال مجھے ہرقسم کا آرام اور سہولت میر ہے۔انکے بچوں اور ان کی بیگم صاحبہ نے مہمان نوازی میں کوئی دقیقہ فرو گذاشتن کیا میرے انکے ہاں قیام کا درجہ سے مہمانوں کی " " ریل پیل ری لیکنی به سب چپل سیل ان سب کی خوشی میں ایادی کا موجب ہوئی۔فجزاهم الله فی الدارین خیراً۔یوگنڈا کے صوبہ لو گانڈ کے بادشاہ ان ایام میں یوگنڈا آئینی لحاظ سے ایک فیڈریشن تھا۔فیر شیشی کا ہے سر فریڈرک متیا سے ملاقات بڑا صور اوگان تھا۔کمال ایران کا دارالحکومت ھی تھا اور یوگانڈا کا بھی۔لو گانڈ کے بادشاہ سر فریڈرک میں تھے ان کے آباؤ اجداد صدیوں سے اس علاقے پر حکمرانی کرتے چلے ئے تھے۔سر فریڈرک کیمبرج کے تعلیمیافتہ تھے اور خوش خلق نو جوان تھے اپنے ملک اور اپنی قوم میں ان کا در سعر صرف بادشاہ ہی کا تھا بلکہ مذہی حیثیت میں بھی وہ اپنی قو کے سربراہ اور رہنما تھے۔مجھے انکی خدمت میں حاضر کرنے کا موقعہ ملا۔ان دنوں کمپالہ سے قریب۔میل کے فاصلے پر دیہات میں مقیم تھے۔کچھ عرصہپہلے برطانوی حکومت نے انہیں ان کے اختیارات