تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 512 of 736

تحدیث نعمت — Page 512

۵۱۲ کی تقسیم کی نوبت نہ آے اور دفاع کا یہ ادارہ آل انڈیا نیاد پر قائم ہے اور دونوں مل برسند کے علاقہ کی مخالف میں تعاون کرنے کا معاہدہ کریں۔ظاہر ہے کہ ایلی وزارت کی یہ ہدایات برطانوی مفاد کی حفاظت کی غرض سے تھیں تاکہ بحر ہند کے علاقہ میں روس کے ارکے نفوذ کو روکا جاسکےاور برطانیہ کے ہندوستان اورمشرق بعید کے تجارتی اتے محفوظ رہیں۔ان ہدایات کے علاوہ مونٹ بیٹن خود بھی ملک کی تقسیم کے سخت خلاف تھے اور سہندوستانی افواج کے بٹوارے کا تو کر بھی انہیں ناگوار تھا۔انہوں نے آخر وقت تک سر و گوش کی کہ کسی طرح فریقین کو کینی مش ای تجاری کے معانی انتقال اختیارات پر رنان کرسکیں لیکن انہی کامیابی نہ ہوئی جب کینٹ مشن نے یہ تجا نہ پیش کی ہیں تو تانہ عہ ختم کرنے کی نیت سے قائداعظم نے ان تجاویہ کومنظور کر لیا تھا۔کانگریس لیڈران نے بھی روا شتی اکاری سے کام لیتے ہوئے و پرے دل سے توان نادی کومنورکیای این را بد نیت بر اور بعض دوسرے کانگریس لیڈران نے اپنے پلک بیانات اور تقریروں میں کینٹ مشن کی تجاون کی ایسی ایسی تحریر کیں جن سے نظام ہوگیا کہ ان کی نیت ان تجاویز پر عمل پیرا ہونے کی نہیں۔کینٹ مشن کے اراکین کی ہمدردیاں اگر چہ عام طور پر کانگریس کے ساتھ تھیں لیکن انہوں نے ان تعبیروں کو غلط قرار دیا اور کوشش کی کہ کانگریس لیڈران ان تعبیروں کو ترک کرکے کینٹ مشن کی تجاویزہ پرعمل پیرا ہونے کا صاف صاف اقرار کر لیں لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکے۔لہذا مسلم لیگ نے بھی ی منظوری واپس لے لی۔اس صورت حالات میں قائد اعظم مونٹ بیٹن کے کہنے پر دوبارہ اس جال میں پینے کے لئے یا ہے اور انہوں نے کینٹ مشن کی تجاویہ کو مین کا گانگرس برخوداپنے ہاتھ ایسے کھوٹ چکے تھے دوبارہ زندہ کئے جانے پر آمادگی ظاہرنہ کی۔مونٹ بیٹن کی شخصیت ضرور دلفریب تھی لیکن وہ سخت خود پسند تھے اور طبیعت میں خوشامد پسندی بدرجہ اتم تھی۔جنگ میں تو کامیابی انہی حاصل ہوئی تھی اس نے ان کی خود سند میں اور بھی اضافہ کر دیا تھا۔اپنے زعم میں وہ سمجھتے تھے کہ جس کام میں وہ ہاتھ ڈالیں اس میں انہیں لازما کامیاب ہونا چاہئے۔الیسی طبیعت والے شخص پر اپنے موقف کی مخالفت ناگوار گزرتی ہے۔اسلئے قائد اعظم کا مستقل مزاجی سے ان کے دام میں آنے سے فنکار انہیں سخت ناگوار ہوا۔یوں تو اپنے قد سے پلے بھی ان کی شہرت کانگریس پسند اور مسلم لیگ کے J مخالف کی تھی۔اپنے قیام سنگا پور کے دوران میں وہ پنڈت نہرو سے مل چکے تھے اور ان سے بہت متاثر تھے۔سٹینوڈ کر پیس کے دوست اور گاندھی جی کے ایچی سدھیر گھوش کے قول کے مطابق گریس نے مونٹ بیٹن کے تقر سے پہلے لندن یں ان کی دوبارہ ملاقات پنڈت نہرو سے کرائی تھی اور اسطرح ان کے تقریر پر ایک طرح پنڈت جی کی رضامندی حاصل کی تھی۔ہندوستان آنے کے بعد مونٹ بیٹن نے پنڈت نہر اور دیگہ کانگریس لیڈر ان سے ذاتی تعلقات قائم کئے اور اول الذکر سے کھل کھلا دوستانہ مراسم بڑھائے۔ان کی خوش در سند بیعت کا اندازہ لگا کر پنڈت نہرو اور دوسرے کانگریس لیڈران نے ان کے بعد یہ خود پرستی کی ہر طرح تسکین کی اور ان کی اس کمزوری سے کما حقہ فائدہ