تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 511 of 736

تحدیث نعمت — Page 511

کی تفصیل بیان کی ہونا یا علم کو ئی تھی تو اسے نے کہا کہ انہیں چودھری صاحب کی بیان کردہ تفصیل سمجھ نہیں آرہی۔اسمے کے کمرے کی دیوار پر ایک نقشہ لٹک رہا تھا۔چودھری صاحب نے اسمے کو اشارے سے نقشے کے قریب بلایا تاکہ نقشہ سے اپنی بات کی وضاحت کر سکیں۔چودھری صاحب نے دیکھا کہ اس نفتنہ پر صوبہ پنجاب میں میں سے یک کر لی ہوئی تھی تو بالکل اس رپورٹ کے مطابق تھی جو قائداعظم کو لی تھی۔چودھری صاحب نے اسے سے کہا قائد اعظم کو چور پور علی اسکی وضاحت کیلئے کسی مزید تشریح کی ضرورت نہیں کیونکہ آپ کے نقشے پر پنسل سے لگی ہوئی لائن خود منہ سے بولی رہی ہے۔پچودھری صاحب لکھتے ہیں :۔✓ ISMAY TURNED PALE AND ASKED IN Confusion Who HAD Been Fooling WITH HIS MAP الرحمہ (اسمے کا رنگ فق ہو گیا اور وہ کھسیانا ہوکر کہنے لگا میرے نقشے میں کس نے یہ گریٹر کی ہے) آج تک نہ تو ریڈ کلف کی طرف سے اور نہ ہی مونٹ بیٹن کی طرف سے اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ پنجاب حدبندی کمشن کے احباس کے لئے لاہور پہنچنے سے پیشتر اور تنازعہ کے متعلق فریقین کے تحریری بیانات سے واقف ہونے سے پہلے ہی ریڈ کلف کیلئے جس لائن پر معاشہ کیلئے پروانہ کا انتظام کیا گیا اس لائن کا نقشہ کس نے تجویز کیا۔اور اس معائنہ کی عرض کیا تھی۔کیایہ محض من التفاق تھا کہ ریڈ کلف نے تقریباً اسی لاش کو ہی حد بندی لائن مقر کرنے کا فیصلہ کیا تو ہدایات پرداز میں دکھائی گئی تھیں۔چودھری محمد علی صاحب نے اپنی تصنیف میں اسکے تو کے نقشہ کا جو اقعہ بیان کیا ہے اس کی بھی آج تک تردید یا وضحت نہیں کی گئی۔ظاہر ہے کہ ریڈ کلف کے ہندوستان آنے سے پسے ہی پنجاب کی تقسیم کے لئے مونٹ میٹین اور اس کے مشیروں نے حد بندی کا فیصلہ کر لیا ہواتھا اور ریڈ کلف کو صرف ایک مسخ کرنے والی مشین کے طور پر استعمال کیاگیا۔تقسیم ہندکے متعلق کچھ سالوں میں کئی کتابیں شائع ہوئی ہیں۔ان سے جو اکثافات ہوئے اُن سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ منٹ مین اور کانگریس کے ایک خود مجھے کے نتیجے میں ہوا جس کے رد سے کانگریس نے ملکی تقسیم اور تقسیم کے بعد برطانوی دولت مشتر کہ میںشامل رہنا ان شرائط پر منظور کیا کہ اول تقسیم ملک کی تکمیل اور انتقال اختیارات دو مہینوں کے اندر اندر کیا جائے۔دوئم یہ بنگال کی تقسیم مو در کلکتہ ہندوستان میں شامل کیا جائے اور سوئم صوبہ پنجاب کی تقسیم ہوکر گورداسپور اور ٹالہ کی تحصیلات ہندوستان میں شامل کی جائیں تاکہ ریاست کشمیر کے ہندوستان سے الحاق کا جواز پیدا ہوسکے۔ایلی کی وزارت کی طرف سے لارڈ مونٹ بیٹن کو ہدایت تھی کہ میں طرح بھی ہو سکے ہندوستان کی سالمیت قائم رکھی جائے اور فریقین کو کینٹ مشن پلان کے مطابق اختیارات کے انتقال پر رضامند کیا جائے۔بغرض محال اگر ملک ی تقسیم ناگزیر تو توی مشتر کہ دفاع کی ضرورت کومدنظر رکھتے ہوئے ایک انتظام کیا جائے کہ ہندوستانی افواج i