تحدیث نعمت — Page 485
۴۸۵ قضیہ فلسطین فلسطین کے مسئلے سے مجھے شروع سے دلچپ رہ ہی ہے۔پہلی عالمی جنگ کے دوران میں حکومت برطانیہ نے عربوں سے وعدہ کیا تھا کہ اگر عرب ممالک تیر کی کے خلاف استحادیوں کا ساتھ دیں تو اتحادیوں کی فتح ہونے پر تمام عرب ممالک کو آزادی حاصل ہو جائے گی البتہ دمشق حمص اور حلب کے مغربی جانب کے علاقے کے لئے ممکن ہے کسی خاص نظام کی ضرورت پیش آئے کیونکہ اس علاقے میں فرانس کی بعض خاص ذمہ دارہ یاں ہیں۔یہ معاہدہ سرسبزی میکمو مین اور شریف حسین کے درمیان ہوا تھا۔جنگ کے بعد عراق اور فسلطین تو یہ طانوی نگرانی میں آگئے اور شام اور لبنان فرانسیسی نگرانی میں۔جب برطانیہ کی طرف سے اعلان بالعفور ہوا تو حسین بوجودہ شاہ اردن کے دادا ) نے اس کے خلاف احتجاج کیا کہ برطانیہ نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔اس پر برطانوی حکومت کی طرف سے کمانڈر کنور دی کو جدسے بھیجاگیا کرد تا چنین کا اطمینان کرا ئیں کہ علان بالفور معاہدے کے تناقص نہیں اور اس سے عرب حقوق پر کوئی مخالفانہ اثر نہیں پڑے گاست چین نے اس وفات تسلیم کرلیا ملکہ عرب ہمان نوازی کے جذبے کے تحت بیان کیا کہ اگر اسکین میں یہودیوں کی آم بطور مہمان ے ہے تو وہ انہیں خوش آمدید کہیں گے اور ان کے ثقافتی اقدار کی حفاظت کریں گے۔ماہ تک صیہونیت فلسطین میں اپنے قدم جما چکی تھی اور اس کا اقدار بڑھتا جارہا تھا۔عرب اراضیات تدریج صیہونی ایجنسی کی ملکیت اور نصرت میں منتقل ہو رہی تھیں۔ادھر جرمنی پر مسلہ کا تصرف قائم ہو گیا تھا اور تمیمی کی یہودی آبادی پر سختی شروع ہوگئی تھی جس کے نتیجے میں جرمن یہودی فلسطین میں منتقل ہونا شروع ہوگئے تھے۔بدیں وجہ یہودی ایجنسی کی سرگرمی لاطین میں تیز تر ہورہی تھیں۔اس سال گرمیوں میں جب میں انگلستان گیا تومیں نے وزیر مہندر سموئیل ہور سے اپنے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہا فلسطین میں سیہونیت کا دور بڑھ رہا ہے اور عربوں کی حالت کمزور ہورہی ہے۔اس صورت حالات کی ذمہ داری در اصل حکومت برطانیہ پر عاید ہوتی ہے۔اسلئے حکومت برطانیہ کو لازم ہے کہ وہ کوئی موثر اصلاحی اقدام کرے۔مثلا عرب زرعی اراضیات کا انتقال غیر عرب مشتریان کے حق میں قانونا رد کردیا جائے۔انہوں نے فرمایا کے تفصیلی حالات کا علم نہیں۔میں سر فلپ کلف سٹروزی نو آبادیات سے یہ ذکر کروں گا اور ان سے کہوں گا کہ میں لا کر تمہارا فقط نر معلوم کریں اور تمہارے ذات کے تدارک کے طرق پر غور کریں۔چنانچہ دو تین دن کے اندر ہی مجھے وزیر نو آبادیات کے سیکریٹری کی طرف سے اطلاع ملی کہ وزیر صاحب نے مجھے یاد فرمایا ہے۔میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ سن التفاق سے سہ آرتھر وا چوپانی کمتر فلسطین لندن آئے ہوئے ہیں۔میں نے انہیں بھی بلایا ہے تاکہ ہ بھی تمہا سے خیالات سے واقف ہو جائیں۔میں نے جو کچھ وزیر ہند کی خدمت میں گذارش کیا تھا دوہ کسی قدر تفصیل کے ساتھ دونوں اصحاب کی خدمت میں عرض کر دیا۔وزیر نو آبادیات نےفرمایا تمہارا ہی کیا نو و دست معلوم ہوتا ہے کہ یہ اراضیات بند نہ بھی یہودیوں کی ملکیت میں جارہی ہیں لیکن اس کا تدارک تو خود عرب ہی کر سکتے ہیں