تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 484 of 736

تحدیث نعمت — Page 484

سم مرام جو نہایت فراغ اور آراستہ تصاور جسکی کھڑکیوں سے پارک اور دریا کا بہت دلفریب منظر دکھائی دیتا تھا۔کرنے میں جانیا شہیر کے وادی کے فرموں میں رکھے تھے انمیں سے ایک طرف اشارہ کرکے دریافت کیا تم نہیں جانتے ہو ہم نے کہا خوب اچھی طرح جانتا ہوں مار کو میں آن لو تھیان ہیں۔گول میز کانفرنس میں شریک تھے۔رائے دہندگی کی کمیٹی کے صدر کی حیثیت میں ہندوستان تشریف لے گئے تھے بعدمیں ایک موقع پر تی میں میرے ہاں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف انٹر یل ایز کا انفتاح کیا تھا۔بہ قابل تھے۔پر چھاتم جانتے تو انکی وفات کیسے ہوئی ہےمیں نے کہا ہاں جانتا ہوں امریکہ یں برطانوی سفر تھے۔شدید در شک میں مبتلا ہو کر بے ہوش ہوگئے۔طبی امداد حاصل کرنا ان کے اصول کے خلاف تھا۔کوئی ڈاکٹر نہ بلایا گیا۔بیہوشی ہی میں فوت ہو گئے۔کہنے لگیں بوسنی ایک قیمتی جان تلف ہو گئی۔میرے بڑے اچھے دوست تھے۔بعض دریدہ دہن لوگ کہا کرتے تھے کہ انہیں میرے ساتھ محبت تھی میں نے کہا آپ کیلئے اس میں جوڑنے کی کونسی بات ہے آدمی دنیا کو آپ سے محبت ہے۔کیا تم یہ سمجھتے ہو میری ڈاک دیکھو تو نہیں معلوم ہولو مجھے کتنی گالیاں دیتے ہیں۔میں نے کہا وہ دوسری آدھی دنیا ہے۔ہنس کر کہا تم بڑے حاضر جواب ہو چلواب نماز پڑھو۔انگلستان میں جرمنی کی شکست کے بعد پارلیمنٹ چند دن بعد جرمنی نے ہتھیار ڈال دیئے اور یورپ کے انتخابات اور لیبر پارٹی کا برسر اقتدا نہ آنا میں جنگ کا خاتمہ ہو گیا لیکن جاپان کے خلاف جنگ جاری رہی مسٹر چپہ چل چاہتے تھے کہ جاپان کی شکست تک مشتر کہ وزارت جاری رہے۔لیکن اسرائیل کو یہ منظور نہ ہوا چنانچہ پارلیمنٹ کے انتخابات کا اعلان ہو گیا۔میں عدالت کی تعطیلات میں ذیا بیطس کے معائنے کے لئے انگلستان گیا ہوا تھا انتخابات کے وقت وہیں تھا۔سٹرائیل کی پارٹی کو میاں کامیابی ہوئی اوروہ وزیراعظم ہوگئے۔21 اگست کو ملک معظم نے نے پارلیمن کا انتا کیا اوراپنی تقریر میں ادا فرمایا کہ انکی حکومت ہندوستان کی آزادی کیلئے ضروری اور مناسب اقدام کرے گی۔علین در سال بعد اس اعلان کی تکمیل ہو گئی۔پنڈت نہرو کی طرف سے مجھے اقوام متحدہ میں ابھی انگلستان ہی میں تھا کہ مجھے پنڈت جواہر لال کے اجلاس میں ہندوستانی مندوب کی نہرو کا ارشاد موصول ہوا کہ میں بطور رکن سند دوستانی حیثیت میں شرکت کی پیشکش - دفد میں شامل ہو کر اقوام متحدہ کے اجلاس میں جو سانفرانسسکو میں منعقد ہونے والا تھا حصہ لوں اور جنوبی افریقہ میں ہندوستانی آبادی کے حقوق کے مسئلہ کی بحث میں ہندوستان کی نمائندگی کروں یہوہ وقت تھا جب مسلم لیگ کے عبوری حکومت میں شرکت کا سوال ابھی طے نہیں ہو پایا تھا۔اسلئے مجھے پڑت صاحب کے ارشاد کی تعمیل میں تامل تھا۔میں نے عذر کر دیا۔انہوں نے میرا غدیر قبول فرمایا اور لکھا کہ انہوں نے یہ کام مسٹر تھا گلا کے سپرد کر دیا ہے۔