تحدیث نعمت — Page 455
۴۵۵ کی مقدار ۲۸ یونٹ یو میت تک پہنچ گئی۔پھر اللہ تعالی نے محض اپنے فضل اور ذرہ نواندی سے بین الاقوامی عدا میں جانے کا موقع پیدا کر دیا۔منگ کی آب و ہوا اور باقاعدہ زندگی اصلاح میں مد ہوئی اور کیسے کی منظار بتدریج کم توکرہ یونٹ رہ گئی تا مهر نیو یارک میں منا را ۱۹۶۲ ، ۱۹۶۳ء میں اسمبلی ی پھر 1941 1471 کی صدارت کی ذمہ داری کا اضافہ ہوا اور کام کے اوقات بہت لمبے ہوگئے۔انسولین کی مقدار ۱۲ ایونٹ تک پہنچ گئی۔پچھلے چھ سالوں میں یہ مقدار کم تو کراب فضل اللہ پھر ہ یونٹ پر آگئی ہے یہ سب کچھ اللہ تعالی کے فضل ورحم سے ہوا۔فالحمد للہ رب العالمین۔امریکہ سے لندن کا سفر نمبر جہاز میں انگلستان کے سفر کے متعلق ہدایت تھی کہ منٹریال پنچ جائیں۔وہاں سے بمبر سروس پر گلاسگوادر وہاں سے لندن پہنچ سکیں گے۔اس ہدایت کے مطابق میں منٹریال پہنچے گیا ونڈسر ہوٹل میں ٹھہرا۔گیری برف پڑی ہوئی تھی۔دوسری صبح اس بہانہ میں سفرکرنے والوں کو ہدایات کیلئے مار کرنے جایا گیا۔میں بتایا گیا کہ میر ی بیٹھے کا انتظام نہیں ہوگا فرش پر گرے ہوں گے ان پر لیٹے لیے سفر کیا ہوگا۔عمر کوگرم کرنے کا کوئی سامان نہیں ہوگا۔پر دانہ میں ہزارفٹ کی بلندی پہ ہو گی۔درجہ حرارت بہت نیچا ہو گا، سردی شدت کی ہوگی اسلئے ہمیں عام لباس کے اوپر ایک ریشمی سوٹ اور اس کے اوپر پھر ایک چھوٹے کا سوٹ پہننا ہو گا۔دونوں قسم کے سوٹ مہیا کئے گئے اور تم نے تجربے کیلئے پہن لئے، ہاتھوں پر پہلے اون کے دستانے اور ان پر چمڑے کے دستانے، سر یہ چھڑے کے کن ٹوپ جن کے اندر چپڑے کے سوٹ کی طرح مٹیا اونی استر تھا۔دوسرے دن اطلاع ملی کہ مر گیا ہے۔ہم مار رہ گئے لیکن ایک نجن میں کچھ نقص پیدا ہوجائے کی وجہ سے ہماری روانگی ملتوی ہو گئی اور ہم ہوٹل واپس آگئے۔تیسرے دن برن کا طوفان شروع ہو گیا جو تواتر پانچ دن جاری رہا۔غرض دون منٹریال میں رکنا یا ہوٹل کے اندر تو قسم کا آرام میں تھالیکن باہر اتنی شدت کی سردی تھی کہ چند قدم سے ندائید چلنا محال تھا۔مجھے ایک دن تھوڑی دور جان کا اتفاق ہوا۔میں سجوں توں چلا تو گیا لیکن واپسی پر میرے دائیں کان سے خون بہہ رہا تھا۔ایک شام میں برف پر انکی کا کھیل دیکھنے کا اتفاق ہوا۔دلچسپ کھیل تھا۔کھلاڑیوں کو تو شوق تھا ہی تماش بینوں کے جوش کی بھی انتہا نہیں تھی۔آخر معماری رونگی دن آگیا۔ہم مطار پر پہنچ کے مطابق ہدایات تیار ہوگئے اور عمر میں داخل ہوئے۔تمام فرش پر گردوں اور گرمیوں کا فرش تھا میر کے عقب میں سے ایک ایک مسافر داخل ہوتا تھا اور جہانہ کی آخری حد تک پہنچ کر لیٹ جاتا تھا۔اس کے بعد آنیوالا سافر بالکل اسکے ساتھ لگ کہ لیٹ جاتا تھا لیکن اس طور پر کہ ایک کا سر کی طرف اور اس کے بعد آنیوالے کا دوسری طرف بالکل اسی طرح جیسے سارڈینز مچھلیاں ڈبے میں بند ہوتی ہیں۔ہم کوئی نہیں کے قریب مسافر تھے ہمارے اوپر بھاری اونی اور پینے کے لحاف ڈال دیئے گئے۔ہمارے سوٹ اور اوپر کے لعان