تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 454 of 736

تحدیث نعمت — Page 454

i ۴۵۴ " تو اسکی طرف تو سجد کی جائے۔اور ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اگر کوئی اور نقص پیدا ہو رہا ہو تو باقاعدہ معائنے کے نتیجے مں اس کا بھی یہ وقت پتہ چل جاتا ہے اور اسکی اصلاح کی جا سکتی ہے۔اگر ذیا بیطیس کا مریض خود یری کا مرتکب نہ ہو اور ہدایات پر کاربند ہے تو امید کی جاسکتی ہے کہ ذیا بطیس کی وجہ سے نہ صرف اسکی عمر میں کمی نہ جو مکہ پر پہر اور احتیاط کے نیچے میں اسکی عمرمی اضافہ ہو۔بعد کے معاشقوں پر سمیت قتل کا اظہار کرتے ہے اور کیا کرتے تھے تم مثل مریض ہو۔جو اہمیت دی جاتی ہے پر عمل کر تے ہو۔میں نے عرض کیا اتنی دورے میں آپ کی خدمت میں حاضر یہ کہ ہدایات حاصل کردوں اور پھران پر عمل نہ کروں اس سے بڑھ کر جہالت کیا ہوگی مسکراتے ہوئے فرمایا لیکن سب اب نہیں کرتے ؟! مرغی کا سر خیمہ تواللہ تبارک تعالی کی ذات ہی ہے۔لیکن طبی اور علم طب اور اصول علاج اور ادویا اور غذاؤں کے اثرات یہ بھی تو اللہ تعالیٰ ہی کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔اور اسکی عطا کردہ نعمیں میں مرض کا بہ وقت علم ہو جانا، حاذق طبیب کا میسر آنا، صحیح تشخیص ہونا ، مونہ دل علاج تجویز ہونا ، علاج اور پر نہیں کی توفیق ملنا ادویات کا میسر آنا ، ان کا موثر ثابت ہونا سب اسکے فضل اور رحم ہی سے ہو سکتا ہے ب اسباب ہیں۔مسبب الاسباب اللہ تعالیٰ ہے۔شانی بھی وہی ہے۔وہ چاہے اور اس کا فضل شامل حال ہو تو بعض ملکہ سب اسباب کے بغیر بھی شفا ہو جائے کئی بار توالی بھی ہوتا ہے کہ جسم کے اندر کوئی مرض یا سقم پیدا ہوا۔مریض کو اس کا علم بھی نہ ہوا اور اللہ تعالی نے محض اپنے فضل اور رحمت سے شفا دیدی۔لیکن رعایت اسباب بھی اس کا فرمان ہے اسلئے تا حد امکان اور استطاعت لازم ہے کو نتیجہ ہر حال میں اسی کے ہاتھ میں ہے۔مجھے نو مرت ولاء میں ابتدائی تنبیہہ ہوئی تھی مں نے ڈاکٹر صاحب کی ہدایت کی پابندی تو کی لکین بہتر ہوتا کہ میں اس مرحلے پر ذیا بطیس کے کسی ماہر معالج کے ساتھ مشورہ کرتا۔خصوصاً حب میرے والد صاحب اسی مرض میں مبتلاء رہے تھے لیکن اس طرف توجہ نہ ہوئی۔اس غفلت کے نتیجے میں سورہ کے شروع میں مرض ذیا بطیس کی صورت اختیار کر گیا۔ڈاکٹر عبدالحمید بٹ صاحب نے باصرار ڈاکٹر وشوانا تھ صاحب کی کرگی خدمت میں بھجوایا جہنوں نے علاج کے صحیح طریق کی طرف رہنمائی فرمائی۔ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و م سے میرے کام کا بوجھ ہلکا کرنے کاسامان پیداکر دیا۔علماء میں چین کا سفر میں آگی می اپنی صحت کے لحاظ سے بھی گھبراتا تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ کا بہت فضل ہوا کہ گو میں ٹینگ کینگ سے نحیف اور دبلا ہو کہ لوٹا لیکن ذیا بطیس کی حالت اس عرصے میں بہتر ہو گئی۔جو عرصہ میں نے فیڈرل کورٹ کی رکنیت میں گذارا اس کے دوران میں ذیا بیطیس میں اصلاح ہوگئی۔تقسیم ملک کی پریشانیوں۔پاکستان کی وزارت خارجہ کی ذمہ دار لوں اور گرمیوں میں کراچی کی رہائش نے شاہ تا ہواء کے عرصہ میں ذیا بطیس میں اضافہ کر دیا۔انسولین کے ٹیکے۔۔