تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 456 of 736

تحدیث نعمت — Page 456

۴۵۶ ۱۹۴۲ مکر اتنے بوجھل ہوگئے کہ جنبش دشوار ہوگی۔لیکن سرد سے پورا بھاؤ ہوگیا، پران کی بلندی کے منظر آکسیجن کا نظام تھا اور ہدایت تھی کرکسی وقت بھی آکسیجن کا اس منہ سے نہ ہٹایا جائے جہان کے اندر ہوائی دباؤ کا کوئی انتظام نہ تھا۔ہم جنوری یاد کو ہم دوپہر کے بعد منٹ یال سے روانہ ہوکر شام کو گیڈر سپنے میاں ا ا ا ا ا ا ا ا الا ای وی کو ان تین نے انہیں میں نےخطاب کیا، دو گھنٹے کی پرواز کے بعدم پینوک پہنچے رات بھری محسوس کرتا رہا کہ گرمی میں اس کو منہ سے شہادوں تومیں زیادہ آسانی سے سانس لے سکتا ہوں کی بات تھی کہ ایسانہ کی جائے مجھے بار بار خیال آنا سنتے تو رہے ہیں کہ آکسیجن کی خوشبو بہت خوشگوار ہوتی ے اور آکسیجن سانس لینے کے فعل کو آسان کر دیتی ہے لیکن کسی اکسیجن ہے کہ فرق پہنچانا تو الگ رہا ماسک سے ہے اورا ""۔۔وریٹر کی بو آتی ہے اس کا راہ بھی نہیں کرسکتی۔رات کے کھلے حصے میں مں نے دیکھاکہ بعض مسافر بیچینی سے بھی پہلو بدلتے ہیں اور کبھی اٹھ کر بیٹھ جاتے ہیں۔جب تم پریسٹوک اتر رہے تھے تو نہیں تایا گیا کہ آکسیجن کی مشین خراب ہوگئی تھی اوریہ نالیوں میں سے آکسیجن ہی نہیں رہی تھی اگر میں شروع ہی میں بتا رہا ہو تاتو کیس ماسک نہ سے ہار میں تو آرام سے سورتا کیونکہ بلندی کی وجہ سےکوئی دشواری سانس لینے میںمجھے محسوس نہیں ہوئی تھی ہاں البتہ ماسک کے رب کی لو سے بہت بیزاری یہ ہی۔سے ہم موٹر کو آج پیر گلاسگو اسٹیشن لندن پر بمباری کے دوران دوماہ کیلئے تیمار ہمیں ہدایت تھی کا اسٹیشن پر کچھ کھا پی لوادر کی کھانے کیلئےساتھ لے لو کیونکہ ای کے ساتھ کھانے کی چاڑی کہ ریل نہیں اور لندن پہنچے کے کھانے کیلئے کچھ میں نہیں آئے گا۔ریل گا سو سے دس بجے مجے روانہ ہوئی سخت سردی تھی صبح اور سویل گرم کرنے کا کوئی سامان نہیں تھا۔چار پانچ گھنٹے کے بعد اندھیرا ہونے لگا۔ذیل میں بالکل اندھیرا تھا اسٹیشنوں پر بھی کوئی روشنی نہیں تھی شہروں اور مکانوں کے اندر سے بھی روشنی کی کوئی شعاع باہر آنے نہیں اتی تھی۔گیارہ گھنٹے کے سفر کے بعد ہم نو بجے رات لندن پہنچے سینٹ جیمز کورٹ میں ہم نے پہلے سے رہائش کا انتظام کر رکھا تھا۔وہاں قیام ہوا۔لارڈ ہیلی فیکس نے جوپیغام دیا تھا اس میں اندازہ تھا کہ لندن می دو ہفتے قیم رہے گا لیکن مختلف وجوہ سے قیام کا عرصہ زیادہ ہوتاگیا اورمجھے پورے دو مہینے لندن میں ٹھہرنا پڑا۔جن کا زمان تھا۔سردی کا موسم تھا، لندن پر ہوائی بمباری ہوتی رہتی تھی، دن چھوٹے تھے جلد اندھیرا ہو جاتا تھا۔کام کیلئے صرف چند گھنٹے میں آتے تھے۔اندھیرا چور جانے کے بعد کہیں نکلنے کا موقعہ نہیں ہوتا تھا۔ان سب امورہ کی f وجہ سے طبیعت پر کچھ لوجو رہتا تھا۔والفضل اللہ نے کسی وقت کوئی خوف یا پریشانی محسوس نہیں کی شاہ جانت ششم کی والدہ ملکہ میری کی طرفے لندن پہنچنے کے دور ہے ان میں انڈیا انس گیا۔وہ یہ قصر بیڈ منٹن میں یک روزہ قیام کی دعوت ہند کے پرائیویٹ سیکریٹری نے کہا ملک معظم کی والدہ کی I