تحدیث نعمت — Page 392
۳۹۲ پڑھ کر سنانے کا نا گوار فرض کرنل سٹینلے کو نہ ادا کرنا پڑا۔ورنہ ضرور ان کی تمہید یہ موتی ظفر اللہ اب تومیں ضرور استعفے دیدوں گا لیکن فیصلہ پڑھ کر نہیں سنا دیتا ہوں۔ان کی طبیعت کی ناساندی نے انہیں استعفے دینے سے محفوظ رکھا۔ان دنوں سر سومی مودی بھیٹی مل اونرز ایسوسی ایشن کے صدر تھے اور اس حیثیت سے اسمبلی کے رکن تھے وہ لندن تشریف لائے ہوئے تھے۔انہیں سریر تو تم واس تھا کہ اس سے معاہدے کی تفاصیل معلوم ہو گئیں۔مجھ سے ملاقات ہوئی تو کہا یں بورڈ آف ٹریڈ کے عملے میں سے کس سے ملوں گا تو ہوں گا کہ ظفر ال نے تم پر غور جاد کیا ہے۔پھر مجھ سے پوچھا اچھا سچ بتاؤ تم نے کیسے انہیں ان شرائط پر پر ضامند کر لیا؟ وائسرائے لارڈ لنلتھگو ) رخصت پر آئے ہوئے تھے۔جب معاہدہ طے ہوگیا اور میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو بڑے تپاک سے ے اور کھا لیا مشکل کام تھا لیکن تم نے خوب نبھایا۔۔تھا سر شادی لال کی جگہ پریوی کونسل کی پیشکش | سرنڈائیر ٹورٹ سے رخصت ہونے گیا تو انہوں نے بتایا جگہ سر شادی لال سندوستان جاتے وقت کہی گئے تھے کہ وہ واپس نہیں آئیں گے۔یوں تو وہ ہر سال ہی کہتے رہے ہیں۔ان کامیاں دل نہیں لگتا صحت اچھی نہیں، آب وہوا ناموافق ہے لیکن اب کیا معلوم ہوتا تھا کا ارادہ واپس آنے کا نہیں۔اگر انہوں نے اتنے بھی دیا تو کیا ان کی جگہ آنا چاہوگے ؟ میں نے دریافت کیا آپ کا کیا مشورہ ہے؟ میرا مشورہ ہے کہ تم ان کی جگہ آجاؤ۔میں نے کہا کہ سر شادی لال نے استعفے بھیج دیا تو اس وقت سوچ لوں گا۔قانون خلع میں جب ملے واپس پہنچا تو اسمبلی کا اجلاس ہو رہا تھا۔قاضی محمد احمد کاظمی صاحب نے اسمبلی میں خلع کے متعلق ایک مسودہ قانون پیش کیا تھا۔جس کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان شادی شدہ عورتوں کو ہندوستانی عدالتوں سے تخلع حاصل کرنے میں جو مشکلات پیش آتی ہیں ان کا ازالہ کیا جائے۔اس مسودے میں ایک دفعہ یہ بھی تھی کہ امہ کوئی مسلمان عورت اسلام ترک کرکے کوئی ایسا مذہب اختیار کرے جین مذہب کی پیر عورت کے ساتھ ملان مردکان کات شرح محمدی کی رو سے جائز ہے تو ایسی صورت میں عورت کے ترک اسلام کی وجہ سے اس کا نکاح فسخ نہیں ہو گا۔ہندو اراکین کی طرف سے اس دفعہ کی مخالفت کی گئی تھی۔حکومت کی طرف سے اعلان کیا گیا تھا کہ یہ مذہبی معاملہ ہے اسلئے اسمبلی کے سرکاری اراکین اس میں غیر جانبدار رہیں گے۔اگر یہ صورت قائم رہتی تو اسمیل میں مسونے کی یہ دفعہ منظور نہ ہوسکتی۔سید غلام بھیک نیرنگ صاحب چند دیگر مسلم اراکین کے ساتھ میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا تم اس معامے میں حکومت کا موقف بدلوانے کی کوشش کرو۔میں نے عرض کیا میں حاضر ہوں لیکن ایک امر ور طا ہے، یہ مسئلہ اسی غلط مسئلے کی شاخ ہے کہ ارتداد کی سزائل ہے اور جہاں یہ سزا ای نہ کی جاسکے ہاں مرند کے دیوانی حقوق ساقط ہو جاتے ہیں۔قرآن کریم سے واضح ہے کہ ارتداد ایک نہایت قبیح اخلاقی اور روحانی فعل ہے۔جو اللہ تعالی کی شدید ناراضگی کا