تحدیث نعمت — Page 393
۳۹۳ موجب ہے۔لیکن گرار نداد تبدیلی عقیدہ تک محدود ہو اور اس کے ساتھ کوئی اور حریم شامل نہ ہو تو اسکی جسمانی سینا کوئی نہیں۔قرآن کریم کی بہت سی آیات کر یہ اس پر دلیل ہیں۔اس بنا پر میں مسودہ کی اس دفعہ کی سرکاری تائید کے حصول کی کوشش تو کر سکتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اس میں بفضل الہ کامیابی بھی ہو جائے لیکن آپ اراکین میں سے بعض اصحاب ایسے ہیں مثلا مولانا ظفر علی خان صاحب تو یقین رکھتے ہیں کہ ارتداد کی سلامت ہے اور ارتداد سے تنسیخ نکاح لازم آتا ہے ایسانہ ہوکہ سرکاری تائید حاصل ہونے کے بعد ایسے اصحاب اڑ بیٹھیں کہ یہ دفعہ اسلامی شریعت کے خلاف ہے۔سید صاب ے فرمایا مولانا ظفرعلی خان دوتین دن کیلئے ایبٹ آباد تشریف لے گئے ہیں ان کی واپسی پران کے ساتھ مشورہ کرنے کے بعد پھر تم سے بات چیت کریں گے۔تین چار دن کے بعد مولانا ظفر علی خالصاحب بھی ان اصحاب کے ہمراہ تشریف لائے۔میں نے گذار کی کہ آپ نے اء میں حضرت مولوی نعمت اللہ خان صاحب کی کابل میں سنگساری کے موقع پر چند مقالے زمینداری تائے کئے تھے۔جن میں آپ کا موقف تھا کہ مرتد کی سزا قتل ہے۔اگر اس موقعہ پر بھی آپ کا دہی موقف ہوا تو مسودہ قانون کی دفعہ مستانہ عنہ کی آپ مخالفت کریں گے اور آپس میں آڑا کا اختلاف ہو گا۔اس پہلو پر ابھی سے غور ہو جانا چاہئے۔مولانا انیس دیئے اور فرمایا وہ اور بات تھی یہ اور بات ہے آپ سرکاری اراکین کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کریں ہم سب آپ کے ساتھ میں میں نے کینٹ میں سوال اٹھایا کہ اس معاملہ میں سرکاری اراکین کے غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ میری غیر حاضری میں کیا گیا تھا۔میں چاہتا ہوں کہ میرے رفقاء میری بات سن لیں۔پھر جو چاہیں فیصلہ کریں۔وہ رضامند ہو گئے تومیں نے گذارش کی کہ نام آزادی ضمیر کا حامی ہے۔تبدیلی عقیدہ بے شک گناہ اور اخلاقی اور روحانی حریم ہے۔لیکن اس کی جسمانی سزا کوئی نہیں۔گرایک مسلمان عورت اسلم کو ترک کرکے کوئی ایا دین اتار کرتی ہے کیا یعنی عورتوں کے ساتھ کیا جاتا ہے تو تبدلی عقیدہ سے خود بخود نکاح فسخ نہیں ہوتا۔اگر ای ہو ت بہت باتیں لازم آتی ہیں۔جن کی میں نے مثالیں دیں مزید بہ ایں یہ مسلہ فقہ کا ہے۔یعنی اسلامی قانون کا اور اسلامی شریعت کی تعبی کی نامسلمانوں کا کام ہے۔اگر موجودہ صورت میں کاری اراکین میری جاندار ہیں۔اسمبلی میں چونکہ کثرت غیرمسلم اراکین کی ہے مسودہ قانون کی یہ دفعہ رد ہو جائے گی۔ار و یا عمل اسلامی شریعت کی تغیر غیرمسلم اراکین کی رائے کے مطابق ہوگی تو ری نا الصافی اور زیادتی ہوئی میری گندگی سنے کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ سرکاری اراکین وقع متنا رعد کی تائید میں رائے دیں۔حکومت کی طرف سے یہ معامل وزیر داخلا سرد کینیڈ میکسول کے سپرد تھا۔انہوںنے مجھے کہا کہ مرے لئے مناسب نہیں ہمیں اسلامی شریعت کے ایک ایسے مسئلے پر تقریر کروں جس میں قرآن کریم کی آیات کی تعبیر لازم آتی ہے۔مناسب ہوگا کہ اس معاملے میں حکومت کے موقف کی وضاحت تم اپنے ذمہ لو میں نے کہامجھے منظور ہے۔چنانچہ وقت آنے پر میں نے آملی میں متعلقہ مسائل کی وضاحت کی۔ان میں سے بنیادی مسئلہ مرتد کی سزا کا تھا۔جس پر یس نے تفصیلی بحث کی۔اجلاس کے ھا تم ہونے پر میں سالی کی عمارت سے باہر جارہا تا کہ مٹایم ایس نے نے مجھے بلایا اور مبارکبادی کہ آج تم نے اپنے