تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 391 of 736

تحدیث نعمت — Page 391

جو فرق ہمارے درمیان باقی رہ گیا تھا اس کے متعلق میں نے انہیں لنکا شائر کے حق میں خفیف سی رعات پیش کردی۔انہوں نے اپنے مطالبے کا بقیہ حصہ ترک کر دیا۔کرنل سٹیلے نے ہماری مفاہمت کو تسلیم کرنے یا اسے کینٹ میں پیش کرنے سے صاف انکار کر دیا۔میںپھر سر فنڈ لیٹر سٹورٹ کی خدمت میں حاضر ہوا مسٹر ونسن سے ملا۔یہ آخری مرحلہ تھا۔میں لالہ ڈار بی کی خدمت میں بھی حاضر ہوا کہ وہ اپنے فرزند کو کم نہیں انہوں نے فرمایا کہ بیچارہ آلیور تو بیمارہ ہو گیا ہے اور صاحب فراش ہے۔میں آج لن کا شائد جارہا ہوں میں چار دن میں واپس آؤں گا۔اس وقت تک اس کی طبعیت اچھی ہو گئی تو اس سے بات کروں گا لیکن کرنیل سٹینلے صاحب فراش ہی رہے اور معاملہ وزیر اعظم کی ہدایت کے ماتحت کینٹ میں پیش ہو گیا۔دوسرے دن میں مسٹر براؤنی سے ملا انہوں نے بتایا کہ کینٹ نے تمہاری آخری پیشکش کے مطابق منظوری دیدی ہے۔کینٹ میں کچھ اختلاف ہوا۔بعض اراکین کی رائے تھی کہ ہمیں اپنے مطالبے پر اصرار کرنا چاہئے بحث کے آخر میں وزیر اعظم نے کہا اس معاملے میں برطانیہ یہ ملک ہے اور مند دوستان چھوٹا ہے اگر ظفر اللہ خان کی آخری کیش سے ہندوستان کو کچھ فائدہ ہوتا ہے تو کوئی ہرج نہیں ہمیں یہ پیشکش مان لینی چاہیے۔مجھے کامن دیلیتھ سے بابر بہت سی پریشانیوں کا سامنا ہے۔میں ہندوستان کے ساتھ ایک نیا تنازعہ کھڑا نہیں کرنا چاہتا۔مین ظفر اللہ خان کو جانتا ہوں۔اگر وہ کہتا ہے کہ وہ اس سے آگے نہیں جا سکتا تو پر جو کچھ وہ کہتاہے وہ بھی تسلیم کرنا ہو گا یا معاہدے کو ترک کر نا ہو گا اس سے کامن ویلتھ کے دوسرے ممالک پر خوشگوار اثر نہیں ہو گا اسلئے مناسب یہی ہے کہ اس کی آخری پیش کش کو منظور کر لیا جائے۔میں نے یہ سنہ اللہ تعالی کا شکر ادا کیا کہ اس نے اپنے فضل در جم سے ایک ناچیز در ے کو کس قدر نواندا۔سجدت لك روحی و جنانی۔مٹر براؤن نے کہا فیصلہ تو میں نے تمہیں غیر رسمی طور پر بتادیا ہے لیکن پروٹو کول کا تقاضا ہے کہ کینٹ کا فیصلہ حکومت کا وزیہ ہی دوسوریا حکومت کے وزیرہ کو بتائے۔میرے وزیمہ تو ابھی تک صاحب فراش ہیں۔اسلئے کل صبح دس بجے تم اور میں وزیہ صحت کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور وہ تمہیں کینٹ کا فیصلہ سنا دیں گے۔کرنل سٹیلے کی غیر حاضری میں یہ معاملہ کینٹ کے اجلاس میں وزیر صحت کے سپرد تھا۔دوسری صبح ہم دونوں سر چارلس کنگلے دو وزیر صحت کی خدمت میں حاضر ہوئے۔انہوں نے کینٹ کا فیصلہ مجھے پڑھ کر سنانا شروع کیا۔انہوں نے ایک دو فقرے ہی پڑھے تھے کہ مجھے پا نی ہوئی کیونکہ وہ میری تجویز نہیں تھی بلکہ وہ مٹر یاؤں کی تجویز تھی۔میں نے سربراؤن کی طرف دیکھا وہ بھی سمجھ گئے تھے اٹھ کر کبائر فیسر مجھے معاف کرنا یہ کینٹ کے فیصلے والا کاغذ نہیں ہے اور ان کے سامنے پڑی مسل سے اصل کا غذ نکال کران کے سامنے رکھی تو انہوں نے مجھے پڑھ کر سنایا۔ہم ان کا شکریہ ادا کر کے واپس آگئے۔اچھا ہوا کہ مجھے فیصلہ