تحدیث نعمت — Page 351
۳۵۱ دیکر بلند آواز سے فرمایا۔آج تم نے ان لوگوں کا منہ کالا کر دیا جو کہتے ہیں مسلمانوں میں قابل وکیل نہیں ملتا۔جزاه الله عدات عالیہ سے ان دو خادمان رسول مقبول کو چھ چھ ماہ زندان میں یا د رسول اور ذکر الہی میں صرف کرنے کی مہلت عطا ہوئی۔رہے ہندو ز ہے نہ ندان۔ور تمان امرتہ کی دریدہ دہنی لاہورمیں یہ فتنہ بھی رونہ ہوا تھاکہ امرت سے ایک اور فتنے نے سر اٹھایا۔در زمان نامی ایک رسالے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کا ایک اور مہندہ شائع ہوا۔دورن کے اندر حضرت امام جماعت احمدیہ کا لکھا ہوا ایک مطبوعہ اشتہار بعنوان رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی محبت کا دعوی کرنے والے کیا اب بھی بیدار نہ ہونگے ، لاہور امرتسری اور بعض دیگر شہروں کی دیواروں پر چسپاں پایا گیا۔فوراً دفع سم م نا فذ کردی گئی۔پانچ یا پانچ سے زائد آدمیوں کا مجمع خلاف قانون قرار دیا گیا، ہر قسم کے اشتہارات اور رسالہ جات کی طباعت اور راشات بدون اجازت ڈپٹی کمشنر ممنوع قرار دیگئی۔غرض امن عامہ کے محاظ سے ایک ہنگامی صورت پیدا ہوگئی۔لیکن آخر حکومت کی مشین بھی حرکت میں آئی۔ورتمان کے طابع اور ناشر کے خلاف حکومت کی طرف سے ہائی کورٹ کے دو جان کے روبہ واستغار ائر ہوا۔سر کار کی طرف سے میاں سر محمدشفیع کو وکیل مقر کیا گیا۔عدالت نے مسٹر جسٹس دلیپ سنگھ کے فیصلے کو منسوخ قرار دیا اور ملزمان کے خلاف تحریم قائم ہو کر انہیں قید کی سزا ہوئی۔مسٹر اوگلوی ڈپٹی کمشنر لا ہور سے بھر پ اس اثناء میں حضر خلیفة المسیح الثانی ہور تشریف لائے۔بات کی طرف سے ایک مختصر رسالے کے شائع کرنے کی ضرورت پیش آئی۔خان ذالفقار علی خان صاحب کو اور خاکسار کو ارشاد ہوا کو ڈٹی کمشنر صاحب کی عدالت میں حاضر ہو کر رسالے کی طباعت اور اشاعت کی اجازت طلب کریں۔ڈپٹی کمشنر مسٹر و گلوری تھے وہ بھرے بیٹھے تھے۔فرمایا ورتمان کے مضمون کے متعلق مرزا صاحب کو ایلیا توش پیدا کر نیوالا اشتہار شائع کرنے کی کیا ضرورت ہمیش آئی تھی بے در تمان کا مضمون متقاضی تھا کہ حکومت ہر حال تابع اور ناشر کے خلاف مقدمہ چلائے۔میں نے کہا جیسے راجپال کے خلاف چلایا تھا؟ کہنےلگے میرا بس چلتا تومیں ضرور پھر راجپال کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچاتا۔میں نے عرض کیا لیکن آپ کالی تو نہ چلانا ڈپٹی کمر نے پوچھا یہ درمان والا اشتہاریا ہو کی دیواروں پر چسپاں کرنے کا کون ذمہ دار ہے ؟ میں نے عرض کیا مجھے ذاتی طور پرتو یہ سعادت نصیب نہیں ہوئی لیکن چونکہ میں نامور کی جماعت احمدیہ کا امیرموں اسلئے مرداری میری ہے۔پوچھا حفظ امن کی ذمہ داری کس کی ہے ؟ میں نے کہا ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی۔کہنے لگے اگر شہر می ناد " ہو جاتا تو ؟ میں نے کہا تو اسے فروکرنا آپ کا فرض ہوتا امام جماعت احمدیہ کا فرض ہے کہ دینی غیرت کی حفاظت کریں اس قرض کی ادائیگی کے لئے قانون کے اندر رہتے ہوئے تو طریق وہ مناسب سمجھیں گے اختیار کریں گے۔اگر وہ قانون کی خلاف ورزی کریں تو آپ بینک ان کے خلاف اقدام کریں۔انگوری بولے خوب تو اگر تمہیں امام جماعت کی طرف سے قانون شکتی کا حکم ملے تو تم قانون شکنی کہ دگنے میں کیا یہ سوال نعول ہے اسلام قانون شکنی کی اجازت نہیں ! دیسی