تحدیث نعمت — Page 350
: ۳۵۰ توہین عدالت کے کیس میں مسئول علیہم اس مرحلے پر میاں محمد شفیع صاحب نے میری طرف اشارہ کی طرف سے پیروی کیلئے میرا انتخاب کر کے فرمایا، میری رائے میں میرے دوست نصراللہ خان رمیاں صاحب اکثر مجھے میرے والد صاحبکے نام سے بھی یاد فرمایا کرتے تھے اسے بہتر کوئی اس خدمت کو نباہ نہیں سکتا اس مجلسی میں بہت سے اصحاب ایسے موجود تھے جو لیاقت اور تجربے کے لحاظ سے مجھ سے کہیں آگے تھے۔مثلا گیاں عبد العزیز صاحب ، مولوی غلام محی الدین صاحب، سید محسن شاه صاحب ، ملک برکت علی صاحب ما خلیفه شجاع الدین صاحب ، غلام رسول خان صاحب ، میاں عبد الرشید صاحب ، میاں محمد رفیع صاحب لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی ذرہ نوازی نے اس مرحلے پر اس سعادت کے حصول کیلئے اس عالیہ کا نام ہی میاں صاحب کی زبان سے نکلوایا۔الحمد للہ۔بہت سی نگاہیں میری طرف اٹھیں۔ممکن ہے بعض ٹھیک ہے کہ یہ فخر ان کے حصے کیوں نہ آیا اور بعض شکر میںکہ انہیں اس امتحان میں نہ ڈالا گیا۔میں نے عرض کیا میں اپنے بزرگوں کی موجودگی میں اپنے آپ کو اس قابل نہیں سمجھتا لیکن اگر مجھے ارشاد ہو تو اس کیس کی پیروی میرے لئے باعث فخرہوگی اور میں یہ سعادت حاصل کرنے کیلئے حاضر ہوں۔دوسے بجا دن پانچ جوں کے اجلاس میں اس کیس کی سمات تھی۔تیاری کیلئے زیادہ وقت تو میسر نہ تھا لیکن دعاء کے مواقع ضرور میر تھے۔ہائیکورٹ میں توہین عدالت اجلاس کے شروع ہونے سے پہلے ہی عدالت کے ہال میں پلک سامعین کا کے کیس کی سماعت ! ( حصہ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔د کار میں سے بھی بہت سے موجودہ تھے۔میں نے پہلے تو یہ عذیر اٹھایا کہ عدالت کو توہین عدالت کے معاملے میں اختیار سماعت حاصل نہیں۔یہ خاص اختیار کہ انا مزعومہ تو ملین کی سزا عدالت خود سی تجویز کری سے برطانوی عدالتوں کا خاص مسئلہ ہے۔اور برطانیہ میں بھی یہ اختیارہ عد التہائے ریکارڈ تک محدود ہے۔اس اصطلاح سے بر طانیہ میں جو مراد لی جاتی ہے اس کے مدنظری ہور ہائی کورٹ کورٹ آف ریکارڈ نہیں۔اس نظریئے کی تائید میں میں نے بعض نظائرہ بھی پیش کئے۔دو گھنٹے کے قریب تو اسی بحث میں صرف ہوئے۔اس کے بعد میں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ سلم اونٹ کا زیر بحث اداریہ جائز تنقید کی مد سے تجاوز نہیں کرتا۔اور تنقید خواہ کتنی شدید ہو توہین عدالت نہیں کہلا سکتی۔ہر روز عدالت ہائے اپیل عدالتینا ابتدائی کے فیصلوں کو منسوخ کرتی ہیں اور بعض دفعہ عدالت ماتحت کے حج کے متعلق سخت الفاظ بھی استعمال کرتی ہیں لیکن اس سے ماتحت جی کی تو میں لازم نہیں آتی۔آخر میںمیں نے کہا اگر بایں ہمہ آپ قرار دیں کہ اداریہ نہ ہی محبت سے بھی متعلقہ کی تو میں لازم آتی ہے تو رسول اکرم صلی الہ علیہ وسلم کی عزت کی حفاظت کی سعی میں اگر ہائی کورٹ کے تو ناگزیر ایک بجے کی تومیں لازم ہوگی تو یہ امر اگر یہ تھا میں کی پوری ذمہ داری مسول علیہم تسلیم کرتے ہیں۔جب بحث ختم ہوئی ہم تو مولانا ظفر علی خا لصاحب سامعین کے حصے سے کٹہرے کو بہا کہ میری طرف لیکے اور اس ناچیز کے ہاتھوں کو بوسہ