تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 352 of 736

تحدیث نعمت — Page 352

۳۵۲ دنیا۔امام جماعت احمدیہ یہ خادم اسلام ہیں اور احکام اسلام کے پابند ہیں دو ایسا حکم نہیں دے سکتے اسلئے پر وہ صورت پیدا نہیں ہو سکتی۔اد گلوی نے کہا لیکن اگر کبھی یہ صورت پیدا ہو جائے ؟ میں نے کہا فضول سوال یہ ہے سے معقول نہیں تو جاتا لیکن اگر آپ کو جواب سنے پر اصرار ہے تو مجھے جواب دینے سے انکار نہیں۔میں نے بیعت میں عہد کیا ہے کہ امام جماعت میں نیک کام کا حکم دیں گے میں ان کی اطاعت کروں گا۔میں ضرور اس عہد کو تھاؤنگا کیا آپ اسی جواب کے منتظر تھے ؟ او گلوی نے کہا جواب بہت دلچسپ میرا فرض ہے کہ میں اسے ہزا یک کسی گورنر یک پہنچا دوں ؟ میں نے کہا آپ فرض کی ادائیگی میں تاخیر کیوں کر رہے ہیں۔ٹیلیفون آپکے سامنے پڑا ہے اٹھائے اور گورنر کو اس دلچسپ تو اسے مطلع کیجئے ؟ اس پر ڈپٹی کمشنر مانے گفتگو کا رخ بدلا اور کہا اچھا آپ صاحبان کس کام کیلئے آئے ہیں ؟" میں نے رسانے کا مسودہ پیش کیا اور کہا اس کے چھپوانے اور شائع کرنے کی اجازت حاصل کرنے کیلئے انہوں نے مسودہ پڑھا دو ایک مقام کی وضاحت چاہی اور کہا تجھے تواس میں کوئی بات قابیل اعتراض نظر نہیں آتی۔اور اجازت پر دستخط کر دیئے میں نے کہا شکر یہ اور مکھڑے ہو گئے۔ڈپٹی کمشنر صاحب بھی کھڑے ہوئے۔مصافحے کیلئے ہاتھ بڑھایا اور کہا۔چودھری صاحب مجھے آپ کی یہ بات بہت پسند ہے کہ جودل میں ہوتا ہے آپ صاف کہہ دیتے ہیں۔ان کے ساتھ بعد میں کئی بارسا بقہ پڑا ہمیشہ بہت شرافت سے پیش آتے رہے ہمارے تعلقات بہت دوستانہ رہے۔حضرت خلیفہ المسیح کا بہت احترام کرتے تھے میں ڈیرہ میں وہ پنجاب کے قوم سکریٹری تھے۔جب قادیانی میں احرار کا نفرنس کے سلسلہ میں گورنر پنجاب کے ساتھ الجھن پیدا ہوئی تو ہماری اتفاقیہ ملاقات ہوئی۔خود اس معاملے کا ذکر چھڑا اور بیر کس کا نام لئے کہا۔بہت افسوس ہے اس معاملے میں امام جماعت کی پوریشن ا خیال نہ رکھا گیا۔مجھے ان کے اس فقرے سے کچھ حیرت بھی ہوئی کیونگ گفتگو کے سیاق سباق میں اس نفقرے کا مطلب صرف بھی ہو سکتا تھا کہ اس معاملے میں گورنہ نے غلط رویہ اختیارہ کیا۔ریاست کشمیر میں حصول بنیادی خطہ کشمیر جہاں اپنے دلفریب مناظر اور گوناگون نوریوں کے باعث حقوق کی جدو جہد کی ابتدا اپنی جاذبیت میں لاثانی ہے وہاں اہل نقطہ با وصف اپنی اعلی نہ ہی اور في استعدادوں کے عرصہ دراز سے ستم ہائے روز گا کا تختہ مشتق بنے ہوئے ہیں۔پچھلے ایک سو پچیس سال میں تو خاص طور پر ان پر عرصہ حیات تنگ رہا ہے۔پہلے ڈوگرہ راج کے مظالم کی چکی انہیں نہایت باریک پیتی رہی اوراب ہندوستانی آمریت کی درخت کے پیسے انکاری ہی ہڈیاں توڑ کران کی علیحدہ ہستی کو معدوم کرنے کے درپے ہیں نیس شاہ سے کشمیر کی مظلوم آبادی نے اپنے بنیادی حقوق کے حصول کی جدو جہد جاری کر رکھی ہے۔پہلے پہل جب ان کی طرف سے انسانی حقوق کے مطالبے کی صدا بلند ہوئی تو اس کا جواب ڈوگرہ حکومت کی طرت سے بندوق کی گولیوں سے دیا گیا جیسے مظلوم بجانی بازوں نے سیٹھوں پر نہیں اپنے سینوں پر لیا۔