تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 348 of 736

تحدیث نعمت — Page 348

ہمیشہ بہت دوستانہ رہے اور ہمارے درمیان کبھی کوئی اختلاف نہ ہوا جس کے نتیجے میں ہم دونوں کو تقویت پہنچتی رہی۔ہم دونوں کے اہل خانہ کے درمیان بھی دوستانہ مراسم قائم ہوگئے اور یہ تعلقات آخر تک بہت گہرے اور مضبوط ار ہے۔انگلستان سے واپیسی لندن سے ہندوستان واپسی کا سفر بھی اسی رستے ہو ا۔لندن سے پیر سن تک ہوائی جہاز پر سفر ہوا پرس سے شام کے کھانے کے بعد ریل پر سوار ہوئے اور تیسری صبح ہینڈی پہنچے۔سامان توریل سے ہی ہوائی کشتی پر بھیج دیا گیا۔مسافروں کو ناشتے کیلئے ہوٹل لے جایا گیا ہم مناتے سے فارغ ہو کر ا انتظار میں تھے کہ ہوائی کشتی پر جائیں کہ اتنے میں ہم نے اپنا سامان ہوٹل واپس آتے دیکھا۔وہ اسقدر بھیگا ہوا تھاکہ مکہوں سے پانی بہ رہا تھا۔معلوم ہوا کہ جھ کشتی ہمارا سامان ہوائی کشتی پر لے جارہی تھی اس کی ایک اور کشتی سے بندرگاہ کے اندر ہی ٹکر ہوئی اور ہمارے سامان والی کشتی الٹ گئی سب سلمان پانی میں گر گیا اسے نکال تو لیاگیا لیکن پانی میں شال یہ ہورہاتھا۔اور بندرگاہ کاپانی گندہ ہونیکی وجہ سے سخت بودار ہی تھی۔اس وقت اور کوئی چارہ نہ تھا۔ہوٹل کے سب کروں میں آگ جلائی گئی اور سامان یکسوں سے نکال کو خشک کرنے کیلئے پھیلا دیاگیا لیکن کچھ مادہ نہ ہوا۔ہوائی کشتی بجائے نوبجے صبح روانہ ہونے کے پانچ بجے شام روانہ ہوئی اتنے میں موم میں ناخوشگوار تغیر دنیا ہو چکا تھا۔روانگی کے تھوڑا عرصہ بعد ہوائی کشتی طوفان میں گھر گئی۔جب یہ حالت نشاست سے باہر ہونے لگی تو میں نشست سے کھسک کر بلا تکلف فرش پر لیٹ گیا۔میتھر پہنچنے تک متواتر یہی کیفیت رہی رات وہاں ٹھرے ہوٹل بہت آرام دہ تھا لیکن سامان کی حالت ایسی تھی کہ آرام نصیب ہونا مشکل تھا۔صبح تک موسم تو صاف ہو گیا لیکن سامان کی حالت بد سے بدتر ہوتی جارہی تھی۔کراچی پہنچنے تک میں نے فیصلہ کیا کہ کراچی سے ہوائی پیمانہ پر دلی جانے کی بجائے میں کراچی سے ایل پر لاہور چلا جاؤں۔دلی جانے میں بھی وقت یہ تھی کہ جو کپڑے میں لندن سے بہنے آرہا تھا وہ دہلی کیلئے موزوں نہیں تھے اور سوٹ کیس کا سارا سامان گندے پانی میں لتھڑا رہنے کے باعث سخت بدبودار ہو رہا تھا۔رسوائے عالم راج پال کی دریدہ دینی اور اسکا انجام | چند سالوں سے حکومت پنجاب کا ایک طبقہ جماعت احمدیہ کو مشتبہ نظروں سے دیکھنے لگا تھا اس کی ابتداء میں ہوئی کہ جب ایک دیدہ و من نیک انانیت شخص نے جس کا نام استان تھا ایک نہایت شرمناک کتابچہ نام رنگیلا رسول شائع کر کے اپنی دنیا اور عاقبت تباہ کرلیں۔یہ کتابی مسلمانوں کیلئے شدید روحانی " اذیت کا موجب ہوا۔حکومت کی طرف سے مصنف پر فوجداری مقدمہ چلایا گیا۔ابتدائی عدالت سے اسے کچھ قید کی سزا ہوئی جو اپیل میں تو قائم رہی لیکن بائی کورٹ میں نگرانی کی درخواست پر مٹر جسٹس دلیپ سنگھ نے قرار دیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی توہین قانون کی زد میں نہیں آئی اور ملزم کو بری کر دیا۔اس فیصلے سے مسلمانوں کے جذبات سخت مجروح ہوئے۔ا الا را جوان کی جلدی ایک جوشیلے سلمان علم ین کے ہاتھوں کی آنکھوں میں یا ان کے فعل کی جیسے دنیا انذار ہورہی تھی کیفر کردار کو پہنچا۔کو