تحدیث نعمت — Page 349
۲۴۹ حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی اس شدید بیان کے دور میںحضرت امام جماعت احمدیہ نے سلمانوں کو شوره سیرت النبی کے جلسوں کی تحریک دیا کہ راج پال کے علاشی کی ذمہ داری کسی تک ہم پر بھی عائد ہوتی ہے کیونکہ ہم اپنے اولین فرض کی کیا حقہ ادائیگی سے انتیک غافل رہے ہیں۔جو یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیشتر طبقہ اور حضور کے خلق عظیم کی صحیح تصویر فرمسلموں کے سامنے پیش کریں۔چنانچہ آپ نے ملک کے طول وعرض میں سیرت النبی کے جلسوں کا سلسلہ ہماری فرمایا۔جو انتیک جاری ہے۔اور جس سے بہت نیک نتائج مترتب ہو چکے ہیں۔اور آئندہ ہونے کی امید ہے۔تعزیرات ہند میں ترمیم جس کی رو سے دوسرے آپنے ملک کے تعزیری قانون میں ترمیم کی ہم شہر دع بانیان مذاہب کی توہین قابل تعزیر قرار دگی کی جس کے تنے میں ان میں میں ترمیم کر دی گئی جس کے الفظ واضح طور پر بانیان مذاہ کی تحریر کیا تقریری تومین کو قابل تقدیر قرار دیتے ہیں۔مسلم اوٹ لک کے مالک اور ناشر پر اس نام میں اور سے ایوان نے انگریزی زرنگ پنجاب ہائیکورٹ کی طرف سے توہین عدالت کا مقدمہ مسلم اوٹ لک میں ایک ادار یہ شائع ہوا جس میں سٹر جٹس دلیپ سنگھ کے فیصلے پر سخت تنقید کی گئی۔اس پر اخبار کے مالک مولوی نور الحق صاحب اور پرنٹر سید دلاری اور اب احمد می کے نام ہائی کورٹ سے توہین عدالت کا نوٹس جاری ہوا مسلمان وکلاء کا ایک مشاورتی جلسہ میاں سرمحمد شیخ صاحب کے دفتر میں منعقد ہوا مسئول علیہم کی طرف سے یہ واضح کیا گیاکہ وہ یہ تسلی نہیں کرتے کہ اداریہ زیر بحث سے مسٹر سٹی کلیپ سنگھ کی تو میں لازم آتی ہے۔اداریہ کا مضمون بجائز تنقید کی حد سے تجاونہ نہیں کرتا، کیونکہ تنقید کی شدت سے جی کی تو این لازم نہیں آئی اگر ہائی کورٹ قرار دے کہ اداریہ سے تو عین لازم آتی ہے تو وہ بصد شوق سزا بھگتنا قبول کریں گے۔معافی طلب کرنا یا عدالت سے رحم کی درخواست کرنا انہیں ہرگز گوارہ نہ ہو گا۔اب یہ سوال اٹھاکر مسول علیہم کی طرف سے وکیل کون ہو۔سب نگا میں میاں سر محمد شفیع صاحب کی طرف اٹھیں۔لیکن آپ نے فرمایا می معذور ہوں۔لیڈی شفیع کی طبیعت سولن میں ناسانہ ہوگئی ہے اور میرے لئے آج رات سولن جانا ضروری ہو گیا ہے اس لئے میں کل عدالت میں مسئول علیہم کی طرف سے پیروی کیلئے حاضر نہیں ہو سکتا۔اس پر متفقہ طور پہ خواہش ظاہر کی گئی کہ شیخ سرعبد القادر صاحب مسئول علیہم کی طرف سے پیروی کریں شیخ صاحب مولوی نور الحق صاحب کو ساتھ والے کمرے میں لے گئے اور کیسے بعد میں مولوی صاحب سے معلوم ہوا۔فرمایا کہ گورنہ کی مجلس عاملہ میںان کے عار منی فقر کا فیصلہ ہوچکا ہے اس لئے ان کا ایک ایسے کیس میں پیش ہو نا مناب نہ ہو گا میں میں ایک طرف سلمانوں کے نازک جذبات تلاطم میں ہیں اور دوسری طرف ہائی کورٹ کی تو مین کا سوال ہے۔چنانچہ کرے میں واپس اگر مولوی صاحب نے فرمایا کہ شیخ صاحب نے ان کا اطمینان کر دیا ہے کہ وہ پیروی سے معذور ہیں۔