تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 347 of 736

تحدیث نعمت — Page 347

وائسرائے کی کونسل میں میرے تقریر اور اکتوریہ کی ملاقات میں وزیر ہند نے بتایا مجھے بہت سے نامہ کی ایک طبقہ کی طرف سے مخالفت اور مراسلات ہندوستان سے تمہارے تقریر کی مخالفت میں موصول ہوئے ہیں۔میں نے کروفٹ اپنے پرائیویٹ سیکریڑی سے کہدیا تھا کہ ان سب کو ردی کی ٹوکری میں پھینکتے جاؤ تم کسے کہتے تھے۔بعض عناصر تمہارے تقریر کے بہت ہی مخالف ہیں۔یہ کیسے لوگ ہیں جو اپنا مفاد بھی نہیں پہنچے وائسرائے کا مشورہ ہے کہ اگر تمہارے تقریر کا اعلان ابھی سے کر دیا جائے تو یہ جوش ٹھنڈا پڑ جائے گا۔تمہاری کیا رائے ہے ؟ میں نے کہا اگر وائسرائے یہ چاہتے ہیں تو مجھے کوئی عذر نہیں۔اس پر مسٹر کروفٹ کو بلوا کر کہا والرائے کو اطلاع کرد و ظفر اللہ رضامند ہے کہ آئندہ ہفتے میں تقریر کا اعلان کر دیا جائے۔پھر مجھ سے مخاطب ہوئے اور فرمایا ایک اور بات جو میں تم سے کہنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ دائم لینے کی اور میری دونوں کی خواہش ہے کہ تم تبجائے سر فضل حسینی کا قلمدان سمجھانے کے سر عورت بھور کا قلمدان اپنے ذمے لو جس میں تجارت اور یہ ہیلوے کے اہم محکمہ جات شامل ہیں۔میں نے کہا بہت شکریہ ! لیکن یہ دونوی محکمے میرے لئے بالکل نئے ہوں گے اور ان دونوں میں اور خاص طور پر تجارت کے محکمے میں تو بعض بہت پیچدار مسائل کا سامنا ہو گا۔کہا درست ہے محنت درکار ہو گی اور تم محنت سے جی چرانے والے نہیں۔میں یہ ہدایت دیدوں گا کہ ان مسائل کے متعلق بجو مراسلات تمہارے قیام لندن کے دوران دلی سے موصول ہوں وہ تمہیں دیکھا دیئے جائیں۔اور جب تم ہندوستان واپس جاؤ گے تو وائٹ ہے بھی یہی ہدایت دیدیں گے۔تاکہ چاہتی لینے پر تمہارے لئے ان محکموں کے مسائل بالکل نئے نہ ہوں۔ہاں ایک بات اور ہے۔سر فضل حسین کی میعاد پہلے ختم ہوتی ہے اور سر جوزف بھور کی میعاد دو تین ہفتے بعد ختم ہوتی ہے۔اسلئے یہ انتظام کر دیا جائے گا کہ تم سر فضل حسین سے ان کے محکمے کا چارہ لے لو۔اور پھر سر جوزف بھور کی میعاد ختم ہونے یہاں سے چارج لے لو۔میں نے کہا اس کی ضرورت نہیں۔میں سر توزین بھور کی میعاد ختم ہونے پر ان کی سے چارج لے لوں گا۔فرمایا ایسا ہونے سے جو صاحب رفضل حسین سے چارج لیں گے وہ کونسل میں تم سے سیر شمار ہوں گے۔میں نے کہا اصول ایسا ہی ہونا چاہیئے اور مجھے اس کے کوئی اعتراض نہیں۔سرمیاں فضل حسین صاحب کی جگہ ) میاں فضل حسین صاحب کے ریٹائر ہونے پر انی جلد کو سر گایش کنور سر مجگدیش پرشاد کا تقریر پر شاد صاحب کا تقر بود وہ لونی کے رہنے والے تھے اور اسی صوبے میں انڈین سول سروس کے سینٹرف تھے۔وہ گورنہ کی عاملہ کونسل کے رکن تھے۔ان سے میرا پہلے تعارف نہیں تھا ملاقات ہونے پر انہوں نے بتایا کہ اپنے نئے منصب کا جازت لینے سے پہلے دو کبھی ملے تشریف نہیں لائے۔مرکزی حکومت کا نام کار خانہ اور کار با ران کے لئے ایک بالکل نیا تجہ ہی ہے۔اپنے محکمہ جات کے معاملات کے متعلق بلالطاف مجھ سے مشورہ طلب فرماتے اور پیش آمدہ اہم مسائل کے متعلق توبغیر باہمی مشورے کے کوئی رائے قائم نہ کرتے ان کے ساتھ میرے تعلقات