تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 344 of 736

تحدیث نعمت — Page 344

۔مسلم " میں سندھ کی مالی حالت کے متعلق اپنے دل میں کوئی خدشہ نہیں پاتا۔فر اطمینان و کیا مجھے آپکی رائے ریاستی انت وزیر ہند کی طرف سے میاں سر فضل حسین کے وسط جولائی میں ایک دن وزیر ریٹائر ڈ ہونے پر وائسرائے کی کونسل کی رکنیت کی پیشکش ہند نے دریافت فرمایا ظفراللہ اب تمہارا آئیندہ کیا پروگرام ہے ؟ میں نے کہا کمیٹی کا اجلاس چند ہفتوں کے لئے ملتوی ہونے والا ہے اور آپ اس عرصہ کے لئے سوئٹزر لینڈ جا رہے ہیں۔میں نے بھی نامہ دے کی سیر کا ارادہ کیا ہے۔کمیٹی کے اجلاس دوبارہ شروع ہونے پر میں لندن آجاؤں گا اور امید ہے کہ آخر اکتوبر تک ٹھہر سکوں گا۔فر مایا تمہارے پروگرام سے میری مراد قیام انگلستان کے پروگرام سے نہ تھی۔در سالی ہوئے تم نے سر فضل حسین کی جگہ کام کیا تھا۔آئندہ اپریل میں انکی میعاد ختم ہونے والی ہے۔تم دوبارہ خدمت عامہ کی ذمہ داری اٹھانے کیلئے تیار ہوگے۔میں نے کہا اگر آپ کو اطمینان ہے کہ میں اس قابل ہوں تومیرے لئے تحر کا باعث ہوگا۔فرمایا میں نے وائی اے سے بات چیت کی ہے ہم دونوں کی خواہش ہے کہ آئندہ سال تم وائسرائے کی کونسل میں سر فضل حسین کی جگہ ہو۔میں نے کہا میں آپ دونوں کا ممنون ہوں لیکن چاہتا ہوں کہ آخری فیصلہ کرنے سے پہلے آپ میری دو تین معروضات پر غور فرمائیں۔اول یہ کہ ابتک چار سمان والے کی کو مسل کے رکن ہو چکے ہیں۔سرسیدعلی امام مہار سے تھے، میاں سرمحمد شفیع پنجاب سے تھے، سر محمد حبیب اللہ مدراس ے تھے ، میاں سر فضل حسین پنجاب سے ہیں۔گویا چارمیں سے دور کا تقری پنجاب سے ہوا ہے۔اگر اب پھر بیجا ہے ہی تقریر ہوا تو نبگال یونی اور بمبئی کے مسلمانوں کو شکوہ ہو گا کہ ان میں سے کیوں کسی کو منتخب نہیں کیا گیا۔وزیر شہد۔ہم کسی صوبہ دارانہ انتخابی قاعدے کے پابند نہیں۔ہمیں جہاں سے مونہوں شخص ملتا ہے ہم انتخاب کرتے ہیں۔پھر تمہاری خدمات تو کسی خاص صوبے سے متعلق نہیں۔تم سارے ہندوستان کے مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت میں مستعد رہے ہو۔ظفر اللہ خاں۔میں آپ کے حسن ظن کا ممنون ہوں لیکن میں چاہتا ہوں کہ آپ دو افراد کی موزونیت پر مینور فرمائیں۔ایک نواب صاحب تھپیاری اور دوسرے سر سکندر حیات خال صاحب۔یہ دونوں صاحبان اپنے صوبوں میں علی عہدوں پر فائز رہے ہیں۔دونوں گورنر کے فرائض بھی ادا کر سکے ہیں۔اور نواب صاحب تو میاں سر فضل حسین صاحب کی جگہ کام بھی کر چکے ہیں۔" " وزیر بند۔ظفر اللہ! میں ان دونوں صاحبان کو جانتا ہوں اور انکی قدر کرتا ہوں۔نواب قہاری تو گول میز کا نفرنس میں آتے رہے ہیں اور سردار سکندر حیات خاں حال ہی میں لندن میں تھے۔کیا تمہارا خیال ہے کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب مونروی ہو گا ؟