تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 343 of 736

تحدیث نعمت — Page 343

۳۴۳ مسلمان آبادی کے لحاظ سے اکثریت میں ہوتے ہوئے بھی نیابت میں اقلیت میں ہوں گے۔اور ہندو اقلیت ؟ ہوئے نیابت میں اپنی آبادی کے تناسب سے کم حصہ پائیں گے۔آپ یور مین نیابت کوان کی آبادی کے تار کے مطابق کر دیں تو سلمانوں کو نیابت میں اکثریت حاصل ہو سکے گی کو انکی آبادی کے تناس کے مطابق نہ ہو۔اور سندوں کوانکی آبادی کے تنا س کے مطابق نیابت مل سکے گی اور ممکن ہے اس سے کچھ زیادہ بھی مل سکے۔لیکن لارڈ زٹلینڈ مطمئن نہ ہوسکے۔اور کرا کر فرمایا ظفراللہ تم مجھے قائل نہیں کرسکتے اور مں تمہیں قائل نہیں کر سکتا۔میر اطمینان تو ت نہیں کر سکے۔تمہارا اطمینان میں کر دیتا ہوں۔میں نے کمیٹی کے اراکین پر بہت زور دیا ہے کہ سنڈی کی نمائندگی میں اس تفاوت کی اصلاح ہونی چاہیے لیکن وہ میری بات سلیم کرنے پر آمادہ نہیں سو نہیں سہانے میں فکر کی ضرورت نہیں۔لارڈ ڈارپی سے گفتگو اسی طرح وزیر بہن نے فرمایا۔لارڈ ڈار بی قانون اور امن کا محکمہ وزراء کے سپرد کئے جانے پر مطمئی نہیں۔میں نے ہزہائی نس سر آغا خان کی خدمت میں گزارش کی کہ وہ کسی دین لارڈ ڈار می کوبن کے ساتھ ان کے دوستانہ مراسم تھے پیج پر مدعو کریں اور مجھے بھی یاد فرمائیں۔پنچ پہ کھانا ختم ہونے کے بعد ان سے گفتگو ہوئی۔انہوں نے اپنی بے اطمینانی کی وجوہات بتائیں۔میں نے اس معاملہ کے حسن وقیح کے پہلو تفصیل سے پیش گئے۔آخر انہوں نے کہا میں ایک تو اس تجوید کی مخالفت کرتا رہا ہوں اب وعدہ کرتا ہوں کہ مخالفت ترک کر دوں گا میں نے کہا یہ تو کافی نہیں۔پوچھا پھر تم کیا چاہتے ہو ؟ میں نے کہا میں یہ چاہتا ہوں کہ اب آپ اس بخونید کی تائید کریں اور کہیں کہ آپ کو طمینان ہو گیاہے کہ قانون اور امن کے محکمے وزراء کے سپرد کرنے میںکوئی خطرہ نہیں۔منے اور سر آغاخات سے کہا۔ظفراللہ بہ امشاق سودے بازنہ معلوم ہوتا ہے۔اور مجھ سے فرمایا اچھا جیسے تم کہتے ہو ویسا ہی کر دوں گا۔لارڈ ہارڈنگ سے سندھ کی کمیٹی سے علیحدگی پر گفتگو | ایک دن وزیر ہند نے فرمایا لا ار ار رنگ سندھ کی صوبہ بیٹی سے علیحدگی پر مطمئن نہیں۔میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔بڑے تپاک سے ملے۔ذکر آنے پر فرمایا جناب ظفر اللہ صاحب! یہ ان کا طریق گفتگو تھا انگریزی میں بھی ہندوستانیوں کو اسی طرح مخاطب کرتے تھے۔مجھے تواب ہندوستان سے آئے عرصہ ہو گیا ہے۔جب میں وہاں تھا سندھ بہت ہی پسماندہ علاقہ تھا مجھے اندیشہ ہے کہ کمیٹی سے علیحدہ ہو کر یہ صوبہ اپنے اخراجات برداشت نہ کر سکے گا اور اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے قابل نہیں ہو گا۔مجھے آپ کے اعتماد ہے آپ بتائیں کہ آپ اس لحاظ سے مطمئن ہیں ؟ میں نے عرض کیا جناب میں نے اس مسئلے کا خاص طور پر مطالعہ نہیں کیا۔لیکن سندھ میں بہت بڑا قبر الماضی قابل کاشت ہے۔پانی کی کمی کی وجہ سے انتہک اس کا اکثر حصہ زیر کاشت نہیں لایا جا سکا۔اب سندھ میں وسائل آپ پانی کو جلد جلد بڑھایا جا رہا ہے بڑے بڑے بند بنانے کے منصوبے بنا چکے ہیں کچھ تو تیار ہو کہ جاری بھی ہو چکے ہیں۔اور کچھ باری ہونے کے قریب پہنچ رہے ہیں۔آئیندہ ترقیات کے بھی عمدہ امکانات ہیں۔