تحدیث نعمت — Page 342
1 ۳۴۲ جائیں گے۔میں نے کہا خد العالے ایسا ہی کرے۔میں نے اپنا تاثیر بیان کر دیا ہے۔پوسھاتم کب تک ٹھہر گئے ؟ میں نے کہا تین چار مہینے تو ٹھہروں کا ہی اس نیت سے آیا ہوں کہ مشترکہ کمیٹی کے کام کا کچھ اندازہ ہوتا ہے اور اس سلسے میں اگر کوئی اپنے ملک اور قوم کی خدمت ہوسکے توکر سکوں۔فرمایا تم نے بہت اچھا کیا۔کل صبح مجھے انڈیا اس میں ملنا آپس میں بات چیت کریں گے۔یہ اللہ تعالے کا فضل ہوا کہ مطالہ پر پہنچتے ہی دزیہ بہار سے ملاقات ہوگئی اور جس غرض کیلئے میں آیا تھا اس کے متعلق مناسب بھی کرنے کا رستہ مطار بری کھل گیا۔پارلیمنٹ کے ایوانوں کی مشترکہ کمیٹی | دسرے دن وزیر سند کی دم میں حاضر ہوا۔انہوں نے میرے انگاشت کے اراکین سے غیر رسمی ملاقاتیں آنے پراطمینان کا اظہار کیا مشترک کمیٹی کے کام پر منفی تبصرہ کیا اور فرمایا ہفتے میں ایک بارمجھ سے ملتے رہا کرو میں تمہیں بتادیا کروں گا رکن اراکین سے تار را ما مفید ہوسکے گا۔میرا نام ہے کہ مشترکہ کیلی اپنی رپورٹ میں قرطاس ابیض کی تجاویز سے اختلاف نہیں کریگی۔لیکن بعض اراکین وقتا فوقتا بعض تجاوند کے متعلق کے اطمینانی کا اظہار کرتے ہیں۔ان سے تمہارا ملتے رہنا اور ان تجاویز کے متعلق اپنا نا شا ور نقطہ نگاہ بیان کرنا ان کیلئے اطمینان کا موجب ہو سکتا ہے۔چنانچہ میں نے اس پروگرام کے مطابق کام کرنا شروع کر دیا۔وزیر ہندمشت کرکیٹی کے سین اراکین سے ملنے کا مشورہ دیتے میں ان سے ملنا اور انکی خاص دلچسپی کے موضوع پر ان سے بات چیت کرتا۔اس کے بعد یہ ہند کے ساتھ ملاقات کے دوران میں گفتگو کا خلاصہ ان کی خدمت میں بھی پیش کر دتا۔لارڈز ٹلینڈ سے فرقہ وارانہ نیات کےمتعلق گفتگو وزیر نے بتایا کہ انٹر ٹینڈ فرق داران نیابت کے فیصلے سے مطمئن نہیں وہ کہتے ہیں بنگال کے بندوں کے ساتھ اس معاملے میں زیادتی ہوئی ہے۔میں لارڈ نہ ٹلینڈ کی خدمت میں حاضر ہوا۔تفصیل سے گفتگو ہوئی وہ بار بار کہتے بنگال میں ہندوؤں کی نمائندگی میں نہیں فیصدی سے بھی زیادہ کمی کر دیگئی ہے۔انہیں آبادی کے تناسب کے مطابق بھی نمائندگی نہیں دیگئی۔مسلمان جہاں جہاں بھی اقلیت میں ہیں انہیں آبادی کے تناسب بڑھ کر نمائندگی دی گئی ہے۔مجھے اس پر اعتراض نہیں لیکن میں سلوک بنگال کے بندوں کے ساتھ بھی ہونا چاہیے۔اگر آبادی کے تناسب سے زیادہ نہیں تو کم سے کم آبادی کے تناسب کے مطابق تو انہیں نمائندگی ملنی چاہئیے اس سے کم دنیا تو انصاف نہیں ؟ میں نے ان کے ساتھ بہت سر کھایا کہ تصویر کا دوسرا رخ بھی تو ملاخطہ فرمائیے کہ تون فیصدی مسلمانوں کو صرف اٹھائی فیصدی نیابت دیگئی تھی۔اتنی بڑی تفاوت کی اصلاح توری تبدیلی سے ہی ہو سکتی ہے۔اگر ہندوؤں کو آبادی کے تناسب کے مطابق نیبات میں حصہ دیا جائے تو مسلمانوں کی مجوزہ نیابت جو باد جو ان کی اکثریت کے اہم فیصدی ہے اور بھی کم ہو جائے گی یہ کہاں کا انصاف ہے کہ اکثریت کو نصف سے بھی کم نیابت دیجائے۔اس تفاوت کی اصل وجہ تو یہ ہے کہ یور سینوں کو بنگال میں دس فیصدی نیابت دیگئی ہے۔حالانکہ آبادی میں وہ ایک فیصدی بھی نہیں۔انہیں دس فیصدی نیابت دینے کی وجہ سے