تحدیث نعمت — Page 341
r * کا بینڈزی سے پریس کا سفر ریل پر ہوتا تھا۔میری یہ دینیہ کی ہوائی کشتی کے پہنچنے کے دن رات کی شمالی و جانیوالی تیز کا یہ کو تیز گاڑی می سونے کے کمرے ہوائی مسافروں کیلئے محفوظ کرئے جاتے تھے۔پرنڈی پہنچنے پر سامان تو کشتی سے ریل پر پہنچادیا جاتاتھا مسافروں کو ہوٹل میں سے جا کر کھانا کھلایا جاتا تھا۔اور پھر ریل پر اپنے اپنے سونے کے کمروں میں پہنچا دیا جاتا تھا۔تیرے دن صبح گاڑی پیرس پہنچتی تھی۔یہاں پھر اسٹیشن سے ہوٹل سے جاکر ناشتہ کرنے کے بعد مطار پرامپریال ایرویز کے ہوائی جہاز پر سوار کیا جاتا تھا۔اتفاق اب ہوا کہ لارڈ اور لیڈی ولنگڈن مسجد رخصت پر انگلستان جا رہے تھے اور راستے میں دو ہفتے فرانس کے جنوبی ساحل پر ٹھہرے تھے اس روز ہوائی میہانہ سے لندن تشریف لے جارہے تھے۔ہوائی جہاز پران کے لئے ایک خاصی مہین محفوظ تھی۔مجھے بھی انہوں نے وہیں بلالیا۔ان کے فرزند اور ہو، لارڈ اور لیڈی ریٹن ڈین بھی ان کے ساتھ سفر کر رہے تھے کر ائیڈین کے مطار پر دن یہ بند ر سیموئل ہو اور ان کی مشاورتی کونسل کے اراکین وائیے اور لیڈی ولنگڈن کے استقبال کے لئے موجود تھے اس حسن اتفاق کے نتیجے میں مطالعہ پر ہی میری ملاقات وزیر ہند سے ہوگئی۔وہ فضائیہ کے وہ یہ بھی رہ چکے تھے۔اور انہیں ہوائی آمد و رفت میں بہت دلچسپی تھی۔جب وائسرائے اور لیڈی دلنگڈن سے بات چیت کر چکے تو مجھ سے دوریت کیا۔کیا یہ تمہارا پہلا ہوائی سفر ہے؟ میں نے کہا ہندوستان سے یہاں تک پہلا ہوائی سفر ہے۔پو چھا تمہارہ کیا تاثیرات ہیں ؟ میں نے پوچھا صاف صاف بیان کر دی ؟ فرمایا مں میں چاہتا ہوں۔میں نے کہا ہوائی جہا نہ یہ دہلی سے نکلے تو نیچے لا ہوتا نے کا ریگستان تھا۔کراچی سے بھرے تک ایک طرف خشک پہاڑیوں کا سلسلہ دوسری طرف جلتی ریت کے ٹیلے بھرے سے بغداد تک کہیں کہیں دریا کے کنارے سبزہ تھا۔بغداد سے گیزا تک عرب کا ریگستان ، قاہرہ سے جب یونانی خزائد کے اوپر پہنچے تو نیچے سبزے کا سلسلہ شروع ہوا۔دوسری صبح اٹلی میں ریل یا خانہ کے ایک مجھے سلسلے میں سے تیز نکلتی جار ہا تھی۔نتوانسته آبادی بھی شہروں کے اندر گر جاؤں کے کلس اور گنبد منتظر میں تنوع پیدا کرتے تھے۔فرانس اٹلی سے بھی زیادہ سرسبز انگلستان کا جنوبی حصہ فرانس سے بھی بڑھ کر سرسبزہ میر غالب تاثر تو یہ تھا کہ قدرت کی طرف سے دنیا دی زندگی کی آسائشوں کے سامانوں میں سے آپ لوگوں کو بہت ہی وافر حصہ ملاہے اور کہیں بہت ہی محدود با لیکن آپ ہیں کہ آپیس میں صلح اور امن کے ساتھ ان سامانوں اوریہ آسائشوں سے پورا فائدہ نہیں اٹھاتے ہر وقت یہاں جنگ کا دھڑکا لگا رہتا ہے۔پہلی عالمی جنگ میں کس قدر تباہی ہوئی اب پھر جنگ کی تیاریاں ہیں۔پوچھا تمہارا خیال ہے جنگ ہو گی ؟ میں نے کہا یقینا ہوگی۔شہر نے اپنی کتاب ۴ ۴ KAM تاب MEIN KAMP۴ میں اپنے سارے پر وگرام کو پیش کر دیا ہے لیکن آپ لوگ دے دیوانے کی بڑے زیادہ درجہ نہیں دیتے۔مجھے تو نظر آتا ہے کہ یورپ کی حالت ایک ایسی کشتی کی ہے جو شام کے وقت دریا کی سطح پر ملتی جارہی ہے کشتی کے سافر عرشے پر شہ ایکے دور کے ساتھ موسیقی اور فرض میں جو ہیں اور کسی کو پیش نہیں کہ تھوڑے ہی فاصلے پر آگئے آیا ہے جہاں پہنچ کر کشی غرق ہو جاے گی اور تمام عیش ورسره ماتم اور نوی خوانی میں بدل جاے گا فرمایا تمہارے تاثرات تو بڑے ڈراونے ہی لیکن میں امید کرتا ہوں کہ یہ نوبت نہیں آئے گی اور ہم امن قائم رکھنے میں کامیاب ہو۔