تحدیث نعمت — Page 340
۳۴۰ ہوٹل میں جس کانام اب پسی ہوٹل سے کھانا کھایا اور دو تین ھنٹے آرام کیا نصف شب کے بعد دو بجے کراچی سے روانہ ہوئے جیوانی، گوادر ، شارجہ ، برین ٹھہرتے ہوئے شام کے کھانے کے وقت تک بعد پہنچنے کی امیدیں تھے کہ پائلٹ نے اطلاع دی کہ بہانہ کو تیز با مخالف کا سامنا ہے اور برے کی جانب بڑھنا دشوار ہورہا ہے اس وقت ہم کویت کے اور پر ہیں۔یہاں ہنگامی استعمال کیلئے ایک A۱۹ STA۱۴ ہے میں یہاں اترنے لگا ہوں۔جہاز کویت اتندا۔حجام صاحب والے نادر نگر کے بھتیجے اور میں دو ہی ہندوستانی مسافر تھے۔باقی سب مسافر بویہ میں تھے کویت ان دنوں دیوار کے اندر گھر ہوا ایک گاؤں تھا کسی قسم کی سہولت میسر نہیں تھی۔مجھے اور کنور صاحب کو و محمد النعام صاحب ان مہمان بنا کر اپنے کان پر لیگئے اور باقی مسافر کو پال میں پہلے گئے۔غانم صاحب کا مکان ہمارے اس زمانے کے متوسط درجے کے شہری مکانوں کی طرز کا دو منزلہ مکان تھا جس کے چھوٹے سے صحن میں ایک پانی کا کنواں تھا اور اس کے ساتھ ہی غسل کے لئے ایک ستفادہ تھا۔دوسری منزل پر ایک چبارہ تھا۔ہمیں اس چو بارے میں اتارا گیا۔فرش پر عمدہ قالین بچھے ہوئے تھے۔اور ایک جانب ایک بڑا پلنگ تھا۔میں بھی بہت تھکا ہوا تھا لیکن کنور صاحب تو بالکل نڈھال ہو رہے تھے۔انہیں تپ دتی کی شکایت شروع - ہوچکی تھی اور علاج کیلئے یورپ جارہے تھے۔خانم صاحب نے ایک طرف تو ہمارے لئے کھانے کی تیاری کی ہدایت دیدی تھی اور دوسری طرف پڑوسیوں کو اطلاع کردی تھی کہ ہمارے نای دو سندوستانی مہمان آئے ہیں۔ان کے پڑوسی ایک ایک در دو کر کے ہماری علاقات کیلئے آنا شروع ہوئے۔کنور ماں کے لئے آنکھیں کھلی رکھا دشوار ہورہا تھا۔میں نے بہت کہا آپ بیٹنگ پر لیٹ جائیں اورکھانا تیار ہونے تک آرام کریں لیکن وہ وضع کو ہاتھ سے دین نہیں چاہتے تھے کہا مجھے کھانے کی تو پرواہ نہیں اسوقت نبندی غذا کا کام بھی دے سکتی ہے۔لیکن یہ لوگ ہمارے میزبان کے اترام اور ہماری تواضع کی خاطر آرہے ہیں پر فرض ہے کہ ی بیدار ہوں اگر یہ میں انکی بات بھی نہیں سمجھتا اور آنکھ کھلی رکھنا دشوار ہورہا ہے اسلام ہوا کھانا آیا اور بہنے بعد فارغ ہوکر سونے کی تیاری کی ایک پلنگ میرے لئے بھی ڈال دیا گیا۔میں مں نے سفارے میں غسل کیا میں ہے بہت فرحت ہوئی۔طلوع آفتاب سے قبل روانہ ہوئے۔بھرے پہنچ کر ناشتہ کیا۔اور میں مسافروں نے منہ ہاتھ بھی نہیں ھو قبل دو سیم بغداد پہنچے۔گرمی کی وہ شدت تھی کہ الامان۔میں نے مطار پر یکے بعد دیگرے چھوڑے گلاس تازہ لیمونیٹڈ کے برف سے ٹھنڈے کئے ہوئے غٹ غٹ چڑھائے لیکن پیاس کی شدت میں فرق نہ آیا۔ریگستان کے وسط میں رطبہ کے مقام پہنچے کھایا۔پٹرول کی پائپ لائن کے ایک سٹیشن کے پاس اتنہ که در سمیری بانہ تیل لیا۔غروب آفتاب کے بعد گیا پہنچے۔یہاں سمندر کی جانب سے ٹھنڈی ہوا میں سانس لینا میسر آیا اور جہانی میں جان آئی۔شام کا کھانا یہاں کھایا۔نصف شب کے قبل ماہر پہنچے نبہانہ سے قاہرہ کا نظارہ بہت پر لطف تھا۔ہوٹل میں آرام سے رات بسر کی گورات بیماں بھی گرم تھی۔صبح ہوائی کشتی سے روانہ ہوے کریٹ اور میتھر ٹھہرتے ہوئے شام کے وقت برنڈی پہنچے اس دن کا سفر آرام سے بھی گزرا اور جب کشتی یونانی مینائی کے اوپر سے گذرنا شروع ہوئی تو منظر بھی دلچسپ ہو گیا۔اٹلی کے اوپر سے امیریل ایہ ویز کو یہ دانہ کی اجازت نہیں تھی۔اس لئے }