تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 339 of 736

تحدیث نعمت — Page 339

یا کسی ایک مطالبے کے خلاف سفارش نہ کر دے۔میاں اس نے فرمایاکہ گول میز کانفرنس کے سلسلہ میں بار بار لندن جاے سے تمہارے وکالت کے کام کا خاصا نقصان ہوا ہو گا اوراب تمہیں ملک سے باہر بھیجنا اور تمہا رے اپنے خرچ پر بھیجنا تم کرنا واجب بوجھ ڈالنا ہے لیکن اس کے بغیر چارہ بھی نہیں میں نے عرض کیا کہ وکالت کے کام کے متعلق آپ فکر نہ کریں۔باوجود سال کا اکثر حصہ ملک سے باہر رہنے کے مری آمد میں خدا کے فضل سے اضافہ ہوتا گیاہے کمی نہیں ہوئی اور اخراجات بھی کوئی ایس یو تھ نہیں ہوں گے کیونکہ میری عادات بالکل سادہ ہیں۔ان دنوں ہائی کورٹ میں میری نور اسپلیں سماعت ہونیوالی تھیں۔چیف جبس صاحب درخواست کی تو انہوں نے میرے انگلستان جانے سے قبل ان سب کی سماعت ہو جانے کا انتظام کر دیا۔وہلی سے لندن تک پہلا ہوائی سفر | میں نے پہلا ہوائی سفر سہ میں لندن سے ایمسٹرڈم تک کیا تھا اس پر دس سال گذر چکے تھے بسکہ میں جب میں پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کے اجلاس میں شمولیت کیلئے لندن گیا تو مار سلیز پہنچنے پہ میرے بعض رفقاء نے تجویہ کیا کہ مارسیلیز سے لندن کا سفر ہوائی جہانہ پر کریں۔میں بھی ان کی تھی شامل ہو گیا۔ہوائی جہانہ آج کے بہانوں کے مقابلے میں بہت چھوٹا تھا۔مشن میں بھی تنگ تھیں کل اٹھارہ میں مسافروں کی گنجائش تھی۔ماریلی سے روانہ جوکہ پریس کے مطارہ پہ ایسے اور آدھے گھنٹے ٹھہر کر روانہ ہو گئے۔لندن کراین مطالہ پر اترے۔اب 1955ء میں میں نے دہلی سے لندن ہوائی جہانہ سے سفر کرنے کا ارادہ کیا۔اس اثناء میں ہندوستان میں انڈین ٹرانس کانٹی نیٹل ایرینہ کا جہری ہو چکا تھا۔اس میں زیادہ حصہ اپریل ایرونیہ کا تھا۔امیریل ایر دینہ کو بہتری او، اے سی کی پیش رو تھی دو ڈائریکٹر مقرر کرنے کا اختیار تھا جن میں سے ایک ہندوستانی ہونا لازم تھا اسپیرال ایرویز نے اپنی طرف سے مجھے انڈین ٹرانس کانٹی نینٹل ایرونیہ کا ڈائرکٹر مقرر کیا تھا۔اس کے مینجنگ ڈائرکٹر مسٹرین نارین تھے۔جب میں نے ان سے انگلستان ہوائی بہانے سے جانے کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا ہم انتظام کر دیتے ہیں کہ تم ہمارے ڈائر کٹ کی حیثیت سے سفرکر میں دلی سے این این کانی مای ایرانی کے جانے پر کراچی کیلئے روانہ ہو یہ جہانہ پہلے جودھپور ٹھہرتا تھا۔یہاں اترتے وقت پائیلائٹ کے اندازے میں غلطی کی وجہ سے جہاز کے نچلے حصے کو کچھ نقصان پہنچا جسکی وجہ سے جہانہ کی مرمت ضروری ہوئی اور بہانہ کراچی جانے کے قابل نہ رہا۔جودھپور کے مطالعہ پر ایک آرام وہ ہوٹل تیار ہو چکا تھا رات ہم نے وہاں بسمہ کی۔دوسرے دن قبل دو پر کراچی سے اپر یل امر دینے کا بہانہ میں یہ ہم نے قاہرہ تک سفر کرنا تھا میں لینے کیئے جودھپور آگیا۔یہ ایک بھاری بھر کم ٹائپ کا بہانہ تھا۔جس کی رفتار پچھتر میل فی گھنٹہ تھی۔جودھپور میں اسے تیل لینے کی ضرورت تھی اور وہاں جہانہ میں تیل بھرنے کا انتظام نہیں تھا۔لکڑی کی سیڑھی لگائی گئی۔مزدور دو دو گیلن کے مین ہاتھوں میں اٹھائے سیڑھی پر چڑھ کر تیل جہاز کے حوض میں ڈالتے تھے۔دو اڑھائی گھنٹے میں تیل بھر گیا اور ہم دو کے بعد دو پر روانہ ہو کر شام کو کراچی پہنچے کارنی