تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 338 of 736

تحدیث نعمت — Page 338

کی دوکان پر مجھے کھانا کھا رہے تھے کسی بات پر جھگڑا ہو گیا اور وہ ایک دوسرے سے الجھ گئے ایک نے جو کچھ ہاتھ میں آیا پکڑ کر درست کہ حمل کر دیا اوراس کی موت واقع ہوگئی۔ان حالت میں جرم قتل عمد کی حدتک نہیں پہنچنا ملزم کو اتنا کا فائدہ ملنا چاہیے۔میری بحث دس منٹ میں ختم ہوگئی۔سرکاری وکیل کا جواب سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ دیا کہ ملزم اول شک کے فائدے کا حقدار ہے لہذا وہ بری کیا جاتا ہے۔ملزم شانی کا جرم قتل عمد قرار نہیں دیا جاسکتا اس کو دوسال قید کی سزا دیجاتی ہے۔عین ہم سب کے اجلاس ختم ہو گی۔دوسری صبح میں مسٹر جسٹس ہلٹن کے اجلاس میں چودھری پوتاپ سنگھ صاحب کی اپیل میں بحث جاری رکھ سکا چار دن کی بحث کے بعد وہ بہری ہو گئے۔۲ جون کو میں ملے گیا ملاقات ہوتے ہی میاں فضل حسین صاحب نے دریافت فرمایا کی تم سے سکندر نے کہا تھا کہ وہ رخصت پر جانا چاہتا ہے اور تم اس عرصے میں اسکی جگہ کام کرو۔میں نے کہا انہوں نے فرمایا تھا کہ انہوں نے سرائیلیہ اردنگ کا نام تو نہ کیا تھالیکن گورنہ چاہتے ہیں کہ وہ مجھ سے دریافت کریں کہ یں ان کی جگہ لینے پر تیار ہوں کہ نہیں میں نے جواب دیا کہ میں انگلستان جانے کا ارادہ کر رہا ہوں اور یہاں موجود نہیں ہوں گا۔میاں صاحب نے فرمایا تم آج ہی اسے مل کر کی کہ تم اس کی جگہ کام کرنے کو تیار ہو۔میری تو ہمیشہ کوشش رہتی ہے کہ ہاں بھی موقع ہے انگریزی کی جگہ ہندوستانی کوٹے اور یہاں ہندوستانی کی جگہ ایک ہندوستانی ی انگریزی کے سپرد کرنا چاہتا ہے۔میں نے سردار سکندر حیات خان کو ٹیلیفون پر مطلع کیا کہ میں شملے پہنچ گیا ہوں اور ساڑھے چار بجے حاضر خدمت ہو جاؤں گا۔میں ان کے ہاں جارہا تھا کہ راستے میں سرمائلہ اورنگ مل گئے۔صاحب سلامت کے بعد انہوں نے فرمایا چودھری صاحب سنا ہے آپ انگلستا جار ہے ہیں۔میں نے کہا ارادہ تو ہے۔کہنے لگے آپ خوش قسمت ہیں میں اور میری بیوی بھی رخصت پر جارہے تھے۔ان پر جگہ جی لے لی تھی لیکن مجھے سکندر کی جگہ کام کرنے کیلئے روک لیاگیا ہے میری بیوی بیٹی چلی گئی ہیں پ وہ اکیلے سفرکریں گی۔میں سردار صاحب کی خدمت میں حاضر ہوگیا۔گھنٹہ بھر بھرا۔ناشتہ ان کے ساتھ کیا انہوں نے اپنا رخصت کے متعلق پروگرام کا ذکر کیا اور دوسرگئی اور کا تذکرہ بھی ہوا لیکن ان کی ریت کے زمانے میں نکی ائم مقام کے متعلق کوئی ذکر نہ آیا میری جرات سرمائیز اردن کے ساتھ ہو چکی تھی اس کی وجہ سے میں نے بھی اس ذکرہ کی ضرورت نہ سمجھی اور واپس آکر میاں صاحب کو بتلا دیا کہ سرمایہ کا تقرر ہو چکا ہے۔دوسرے دن میاں سر فضل حسین صاحب سے گفتگو کے نتیجے میں بیٹے ہوا کہ میںاپنے خرچ پر لندن جاؤں اور غیر سمی ملاقاتوں سے کوشش کر دی کہ مشترکہ کمیٹی میرا مینی پر نور کے درمیان ما مواد کو نظرانداز نہ کر دیا ہے ریان ان کا جانا اور شرک کمیٹی ہمارے مطالبات یا کسی ایک مطلبے کے خلاف سفارش کردیتی تو سلم عوام کی شکایت کہ ہو سکتی تھی کہ جبتک سرکاری خرج پر وفد جاتے رہے ہر کوئی وند میں شامل ہونے کا شوق رکھتا تھا لیکن بے کاری طور پر وفد بھیجنے کا سلسلہ بند ہو گیا تو کسی نے اس بات کا خیال رکھنے کی پرواہ نہ کی مشترکہ کمیٹی مل مالیات