تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 337 of 736

تحدیث نعمت — Page 337

ا سمسم دید یاکریں۔لال ہم تو جہ سے سن کریں گے۔پہلے ہی دن چھالوں کی سماعت کرلی۔میں مں سے صرف دو منظور ہوئیں چودھری فضل داد صاحت ہے کچھ پریشانی میں مجھے یہ کیفیت سنائی اور کہا بار روم میں بڑی گھراہٹ پھیلی ہوئی۔معلوم ہوتا ہے یہ تو بڑی سختی کیا کریں گے۔میں نے کہا مجھے توان کے طریق یہ کوئی اعتراض نہیں۔وکیل صاحبان کو چاہیے تیاری کر کے اجلاس میں جایا کریں اور دلائل سے بج صاحبان کو قائل کرنے کی کوشش کریں۔ریکارڈ کے پڑھنے میں استقدیر وقت صرف کرنے سے کیا حاصل ؟ اس دن میں سارا وقت مسٹر جسٹس ملین کے اجلاس میں چودھری پو پاپ سنگھ صاحب کی طرف سے ان کی اپیل پور میں بحث کرتا رہا تھا۔کیس کہا تھا اور دو تین دن اور ملنے والا تھا۔چودھری پو پاپ سنگھ صاحب گورنمنٹ کالج ++ لاہور میں میرے ہم جماعت رہے تھے۔بعدمیں پنجاب کونسل کے رکن بھی ہے۔چو دھری چھو ٹورام صاحب کے رفقاء اور دوستوں میں سے تھے اپنے حلقے کی انجمن امر رباعی کے نائب صدر تھے۔اس حیثیت میں ان کے خلاف معین کے الزام میں مقدمہ چلا جس میں سیاسی جنبہ وادی کا بہت کچھ دخل تھا۔انہیں پانچ سال قید بامشقت کی سزا ہوئی۔ان تمام حالات کی دیجیے مجھے ی ایل کے تعلیمی معمولی فکر تھی۔اتفاق ایا ہوا کہ درسی دو سر بس مین لاہور کی عدالتوں کے معائنے کے لئے انیوالے تھے اور اپیل کی ساعت تیس دن پر ملتی ہوئی لیکن ا دن میری ایک واداری اپل ال پی میں پانچوں نمبرپر لگ گئی۔عدالت کا اجلاس ساڑھے تین بجے ختم ہوتا تھا۔تین بجکر دس منٹ پر میری اپیل کی باری آگئی اجلاس ختم ہونےمیں فقط میں منٹ باقی تھے میرے کیس میں دوملزموں کو یشن کی عدالت سے پھانسی کا حکم ہوا تھا۔میں من میں ایسے کہیں کا خوش اسلوبی سے ختم ہونا ذرا مشکل معلوم ہوتا تھا میں ملتوی کرایا جاسکتاتھاکیونکہ اگلی مسیر پر پودری پر پاپ سنگھ اوب کی اپیل کی سماعت شروع ہونیوالی تھی قتل کی اسی میں التوا کی درخواست کنے میں مجھے اسنے تامل تھا کہ چیف جسٹس نگ کے اجلاس میں وہ میرا پہلا کیس تھا۔میرا غور تو معقول تھا کہ کل صبح ایک ایل میں وزیر سماعت ہے مجھے بحث جاری رکھنا ہے لیکن پھر بھی شاید چیف جسٹس صاحب خیال کرتے کہ مں نے بحث کیلئے تیاری نہیں کی۔کچھ مجھے یہ ھی خیال نا کر سکتی ہے وری قفل دار صاحب ایک کریک کی تو کہا تھا کیل کو تیار کر کے مال میں جانا چاہیے تاکم مصر وقت می پنے دلائل بیان کرسکے اور آج موقع آنے پر انتواکی در وات کر دی ہے۔میں نے فیصل کیا کہ میں چیف جسٹس صاب کے مجوزہ طریق کے مطابق کیس پیش کرنے میںاپنا امتحان کردیں، چنانچہ میں نے مختصر طور پرواقعات بیان کئے اور کہا بیر کی ہے کہ ایک سائل کے متعلق تو معقول شک کی گنجائش ہے کہ اس نے حرم میں حصہ لیا یا نہیں ایک گواہ کہتا ہے اس نے مقتول کو پکڑے رکھنا کہ دو سالم آسانی سے مل کر کے ریکارڈ کی صفیہ لال کر لیا ، درس گاہ کہتا ہے یہ دونوں کو لیڈ کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ریکارڈ کا صفحہ فلاں سطر نلاں ) اس اختلاف کی موجودگی میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس کے خلاف جرم ثابت ہے۔اسے شک کا فائدہ ملنا چاہیے۔دوسرے سائل کے متعلق گذارش ہے کہ ملزم اور منقول دونوں نا نیا نی