تحدیث نعمت — Page 301
جس سے میں تو کس نتیجے پر نہیں پہنچ سکتا۔میرامشاہدہ اسبات کی تائید کرتا ہے اسلام کی صحت گریہ ہی ہے ڈاکٹری رپورٹ کہ سے ظاہر ہے کہ اس کا وزن کم ہو رہا ہے۔اندریں حالات میں حکومت کی طرف سے یہ ذمہ داری لینے کیلئے تیار ہیں کہ اسے توات میں رکھا جائے۔اس پر عدالت کیلئے سوائے ضمانت منظور کرنے کے اور پھارہ نہ رہا۔جب ٹریبیونل کی عدالت میں میرے آخری دن کی کاروائی ختم ہوئی تو پریذیڈنٹ صاحب نے چند رسمی الوداعی کلمات فرمائے۔ڈاکٹر کچلو صام نے بھی ان کی تقلید کی۔اس پر ملزمان میں سے دو صاحب کھڑے ہوگئے۔مجھے اندیشہ ہوا کہ شایہ میرے خلاف کچھ احتجاج کیا چاہتے ہیں۔تو کچھ انہوں نے کہا اس کا خلاصہ یہ تھا۔ٹریبیونل کے صدر صاحب اور ہمارے وکیل صاحب نے جو کچھ کہا ہے ہم اس کی تائید کرتے ہیں۔ہم ظفراللہ خان کی قانونی قابلیت کا اندازہ تو نہیں کر سکتے لیکن ہم یہ ضرور کہنا چاہتے ہیں کہ اس نے سرکار کی طرف سے اس مقدمہ کی پیروی پوری شرافت کے ساتھ کی ہے۔اللہ تعالیٰ کی شانِ بے نیازی ہے کہ مجھے گوشہ گمنامی سے اٹھا کر دائرے کی مجلس عاملہ یں محض اپنے لطف و کرم اور ذرہ نواندی سے بٹھا دیا ساتھ ہی ڈاکخانے کے بالوصاحب سے میری عقل اور سمجھ کا معبر مجھے بتاکر در درگا داس صاحب سے میری تابلیت کا اندازہ ائم کر کر مجھے بے جاخر اور گھمنڈ سے بچالیا۔پھر ا ارحم الراحمین کی شفقت ہوش میں آئی اور دو نو جوان ملزمانکے کے منہ سے بین پر دہشت پسندی اور سازش کے الزام تھے اور جنہیں میں حکومت کے وکیل کی حیثیت میں زندان میں کرانے کی سعی کرتا رہا تھا ایسے الفاظ کہلوا دیئے جو ان حالات میں ملزمان کی طرف سے وکیل استغاثہ کے بھی میں شاہد ہی کبھی کہے گئے ہوں۔شام کی گاڑی سے میں لاہور جانے کے لئے روانہ ہوا توملزمان میں سے پروفیسر نگھم اور ان کے ایک اور رفیق ہو پہلے سے ضمانت پر رہا تھے مجھے الوداع کہنے کیلئے اسٹیشن پر آئے اور پوٹیدار کی طرف سے پیغام لائے کہ اگر وہ آنے کے قابل ہوتے تو ضرور آتے۔دوسرے دن لاہور میں یونینسٹ پارٹی کی طرف سے میاں صاحب کے اعزاز میں لینے دیا گیا۔میں نے میاں صاحب کی خدمت میں گزارش کی کہ کام کے متعلق مجھے کچھ ہدایات فرما دیں۔فرمایا میں ہر وقت تمہارے پہلومیں تو کھڑا نہیں رہ سکوں گا تم اپنی تہمت سے تیر سکوگے یا کم مہتی سے غرق ہو گے۔البتہ ایک بات ہے، یا جپائی کے سیکر ٹری ہونے پر جائنٹ سیکریٹری کا عہدہ خالی ہو گا۔میں نے کوشش کی تھی وائسرائے رامچندر کے تقری پر رضامند ہو جائیں لیکن چونکہ ریڈ سروس میں اور محکمے میں رامچندرہ سے سیر ہے وہ رضامند نہ ہوئے۔وہ عارضی تقریر تھا اب تمہارے وقت میں منتقل تقرر کا فیصلہ ہوگا۔اگر را مندرہ کا تقرر ہوسکے تو میرے لئے اطمینان کا باعث ہو گا۔نمان بہادر ڈنشا نادرشاه پرسنل اسسٹنٹ اسی شام میں لاہور سے ملے روانہ ہوگیا میاں صاحب کے پرسنل اسسٹنٹ خان بہادر ڈنشا نادرشاہ میرے ہمراہ تھے۔کالک سے ہم کرایہ کی موٹر پر مل گئے۔جب پہاڑی سفر شروع ہوا تو میں نے خان بہادر صاح سے کہا آپ جانتے ہیں مجھے اس کام کا کوئی تجربہ نہیں اور میں شملہ اور