تحدیث نعمت — Page 279
۲۷۹ اور انہوں نے وزیر اعظم کے کان میں کچھ کہا جس پر وزیر اعظم نے مجھے بولنے کی اسحجائت عنایت فرمائی میں نے گذارش کی کہ مسلم نمائندگان جہاں وطن کی آئینی تر قی کے بہ رعت ظہور میں آنے کے شدت سے متمنی اور نواباں ہیں وہاں ان کی یہ بھیا آرزو ہے کہ ہندوستان کا جو آئینی قصر تیار ہو اس کی وصنع اور نقش و نگار کی رنگینیاں اور بو قلمونیاں ایک ہی ثقافتی رنگ لئے ہوئے نہ ہوں۔بلکہ ہندوستان کی متعدد ثقافتوں کی جھلکیاں ان میں نمایاں ہوں اور ان کے حسن کو دوبالا سہ بالا کرنے میں محمد ہوں۔ساتھ ہی ان کی یہ بھی تمنا ہے کہ اس قصر کے تعمیر کرنے میں اور ملک کے تمام تعمیری منصوبوں میں تعاون ، خدمت اور قربانی کے مناسب مواقع انہیں بھی میسر آتے رہیں۔اور وہ اس فخر سے محروم نہ ہوں۔یہ ایک ایسی معائنہ خواہش ہے کہ اس سے اختلاف کی کوئی وعید نہیں ہو سکتی۔لارڈ بلیز برگ | مقررہ وقت پر میں لارڈ بلیز برگ کے مکان پر حاضر ہوا بہت تواضع اور شفقت سے پیش آئے ان کا خاندانی نام YOUNGER تھا۔فرمایا ہم کچھ بھائی تھے میں سب سے چھوٹا ہوں۔میرے بھائی سمیر زندہ ہیں جو مجھ سے کچھ سال بڑے ہیں سکاٹ لینڈ میں رہتے ہیں۔لارڈ بلیز برگ کو اپنی والدہ سے بہت محبت تھی۔انہیں عبد معلوم ہو گیا کہ مجھے اپنی والدہ بہت عزیزہ ہیں۔اور یہ قدر مشترک ہمارے درمیان ہمدردی اور دوستی کے گہرے پیوند کا موجب ہوگئی۔انہوں نے عمر بھر شادی نہیں کی تھی۔اس کی وسعہ مجھے چند سال بعد اسنی کی زبانی معلوم ہوئی۔انہیں جوانی کے آغانہ میں ایک شریف زادی سے محبت ہوگئی۔تمام حالات موافق تھے لیکن ان دنوں انہیں ایک عارضہ لاحق ہو گیا ان کی جلد یہ مچھلی کے چاندوں کی طرح چاندے بن جاتے تھے اور کچھ عرصہ بعد گر جاتے تھے۔انہوں نے ڈاکٹر نامین واکر سے ہو یونیورسٹی میں ان کے ہم جماعت رہے تھے مشورہ کیا کہ ایسی حالت ہیں انہیں شادی کرنی چاہیے یا نہیں۔نارمن نے کہا را بہٹ مجھے کچھ وقت دو میں اس عار منے کے متعلق کچھ کتب بینی کروں اور دو ایک رفقاء کے ساتھ تبادلہ خیال کرلوں۔چند دن کے بعد اس نے کہا۔میری پختہ رائے ہے کہ یہ عارضہ لاعلا ہے اور تمہیں شادی نہیں کرنی چاہیے اسلئے انہوں نے شادی کا خیال ترک کر دیا۔میں نے دریافت کیا آپکو بعد میں کبھی اس فیصلے یہ تاسف ہوا۔فرمایا ظفر اللہ کی بار تاسف ہوا اور بہت تاسف ہوا۔لیکن پھر میری طبیعت شادی کرنے پر کبھی مل نہیں ہوئی۔وہ مفروضہ طور پر لاعلاج عارضہ قابل علاج بھی ہو گیا اور ان کی اس سے رہائی بھی ہو گئی لیکن وقت ہاتھ سے نکل چکا تھا۔مجھے سولہ سال ان سے گہرے دوستانہ مراسم کی سعادت حاصل یہ ہی اور بہت سا وقت ان کی صحبت میں گزارنے کاموقعہ ملتا رہا میں نے انہیں کبھی افسردہ نہ پایا و سنجیدہ طبع تھے لیکن بشاشت ان کا خاصہ تھی۔وہ پہلے برسٹر ہوئے پھر ۹۰۰ پھر چانسی کے بیج ہوئے پھر لارد جسٹس نیگیر ہوئے آخر کار ڈر آف اپیل ہونے پہ لارڈ بلیز برگ نام اختیار کیا۔اس ناشتے کی محبت میں ہی فرمایا