تحدیث نعمت — Page 280
YA میں چاہتا ہوں تم میرے ماں ڈنر پر آؤ اور میں چند احباب کو تمہاری ملاقات کے لئے بلاؤں۔میں نے عرض کیا کہ یہ میرے لئے فخر کا موجب ہو گا کچھ دن بعد میں بموجب ارشاد شام کے کھانے پر حاضر ہوا۔راجہ نریندر ناتھ صاحب سردانہ انیل سنگھ صاحب اور سردار نی صاحبہ بھی مہمان تھے۔یورپین مہمانوں میں ڈسپس آن رچمنڈ اینڈ گارڈن اور لارڈ چیمسفورڈ سابق وائسرائے ہند بھی تھے۔کھانے سے فارغ جو کہ تب مہمان گول کمرے میں جانے لگے تو لارڈ بلیز برگ نے میرا ہاتھ پنے ہاتھ میں لیکر اپنے بازو کے نیچے سے گزار لیا سردار مبل سنگھ قریب ہی تھے انہوں نے کچھ تجیب کی نگاہ سے دیکھا۔لارڈ بلیز برگ نے اپنے دوسر ہا تھ سے میرا ہاتھ تھپک کر فرمایا۔سردار صاحت کے سکرا کر فرمایامیں انہیں جانتا ہوں ، ہم دونوں پنجاب کونسل کے رکن ہیں۔لارڈ بلنتر برگ نے بیساختہ کہا۔f A GREAT GREAT ADVOCATE - I MEAN - ON WHATAN HONOUR پھر یہ سمجھ کر کہ سردار صاحب کو شاید یہ بات ناگوار ہو فوراً کہا۔FOR BOTH OF YOU BOTH of you کس قدر کریمانہ الطاف تھا۔اور کتنا دوسروں کے احساس کا پاس تھا فنڈ لیٹر سٹورٹ | کانفرنس کے اجلاس کے دوسرے یا تیسرے ہفتے میں انڈیا آفس کی طرف سے مندرہ بلین کے اعزاز میں بڑے پیمانے پر ایک استقبالیہ دیا گیا۔میں یہاں در میان انجمن تناسم کی کیفیت میں تھا۔ایک صاحب میرے پاس اگر کھڑے ہو گئے اور فرمایا میں تم سے لاہور میں مل چکا ہوں میرا نام نہ ایڈیٹر سٹور ہے۔میں سائن کشت کا سیکہ بڑی تھا۔میں نے کہا مجھے آپ سے دوبارہ مل کر مسرت ہوئی۔اب آپ کی تعیناتی کسی کام پر ہے اورنہوں نے مسکرا کر اور کچھ حجاب کے ساتھ کہا اب مجھے انڈیا آفس کا رئیں بنادیا گیا ہے۔ایک دو رسمی باتوں کے بعد ہم جدا ہو گئے دو ایک بار بعدمیں بھی رسمی مزاج پر سی ہوئی۔صالح اکبر حیدری انڈین سول سروس ( فرزند اکبرسه اکبر حیدری دار المهام رویا حیدر آباد) میدہ آباد کے سیکریڑی تھے۔ایک دن انہوں نے مجھ سے کہا کہ فنڈ یٹر سٹورٹ کہتے ہیں میں نے دو تین باز ظفر اللہ خان کے ساتھ بات چیت کی کوشش کی ہے لیکن کامیاب نہیں ہو سکا۔میں نے کہا دو ایک بار ان سے صاحب سات تو ہوئی ہے۔وہ مستقل نائب وزیر بند ہیں اسلئے میں نے حجاب کی وجہ سے از خود ن کے ساتھ زیادہ گفتگو نہیں کی مجھے افسوس ہے انہیں روکھے پن کا احساس ہوا۔یہ میری طبیعت کا نقص ہے جسکی اصلاح کرنے میں میں ابھی تک کامیاب نہیں ہوسکا اور اسی وجہ سے دوستوں کو اکثر میرے متعلق شکایت کا موقع مقالہ متا ہے۔حیدری صاحب نے کہا میں نے سرفنڈ لیٹر سے کہ دیا تھا کہ تمہاری طبیعیت میں بہت مجا ہے میں سے شروع میں ملنے والے کو سرد مہری یا روکھے پن کا گمان ہوتا ہے بسر منڈیر خود بہت قابل قدر شخصیت ہیں اور میرے والد چاہتے ہیںکہ ہمارے متعلق ان کی خلا میں واقع ہو جائے۔اس کی انہوں نے یہ صورت تجویہ کی ے کہ تمہیں اور ہنڈیٹ کو اک شام کھانے پر بلائیں تم دونوں کے علاوہ صرف میری والدہ میری بیوی پسر فنڈ لیٹر کی بری صاحبزادی اور میں موجود ہوں گے تاکہ بلا تکلف بات چیت ہوسکے۔چنانچہ بانڈ پارک ہوٹل میں جہاں سراکبر حیدری صاحب کا قیام تھا یہ اجتماع ہوا اور شام بہت لطف میں گزرنی پسرنڈ لیٹر سٹورٹ کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم ہو گئے