تحدیث نعمت — Page 261
ہم میں سے بعض نے کمشن پر زور دیا کہ عدالتی اور انتظامی محکمہ جات کو الگ الگ کر دینا چاہیے اس مسئلے پر غور کرنے کیلئے سر جان سائمن نے ایک سب کمیٹی نجونیہ کی اور اس کا اعلاس شام کے وقت گورنمنٹ ہاؤس میں طلب کیا۔حکومت کی طرف سے غدیر کیا گیا کہ مجسٹریٹ صاحبان کو عدالتی اور انتظامی فرائض دونوں سر انجام دینے ہوتے ہیں الگ الگ محکمہ جات کے لئے افسران کی تعداد بھی بڑھانا پڑے گی اور اخراجات بھی بڑھ جائیں گے۔میں نے تجویز پیش کی کہ اس مرحلہ پر ایک معمولی سی تبدیلی کر دی بجائے بجھر ہمارے لئے اطمینان کا موجب ہو جائے گی۔وہ یہ کہ جو مجسٹریٹ عدالتی فرائض سر انجام دیں ان کے کام کی رپورٹ سشن جج صاحب نائی کورٹ کو کیا کریں۔اور ان کے تبادے تفویض اختیارات اور ترقی کے احکام بھی بانی کورٹ سے صادر ہوا کہ یں۔ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کمشنز اور حکومت کا ان میں دخل نہ ہو۔چیف سیکر ٹی صاحب نے منور کا وعدہ کیالیکن کوئی نتیجہ یہ آمدن ہوا۔پنجاب کمیٹی نے اپنی رپورٹ تیار کی۔یہ رپورٹ زیادہ تر سردار سکندر حیات خان صاحب کے فکر اور حنت کا نتیجہ تھی بیٹی کے یورین کین مراد آن را برٹس کمیٹی کی اکثریت کے ساتھ پوری طرح متفق تھے جن امور می کیٹی کے دوستہ اراکین میں اختلاف تھا مسٹر را پریس یونینسٹ پارٹی کے ساتھ متفق تھے۔جب کشن کے صوبائی اجلاس ختم ہو گئے تو تمام صوبائی کمیٹیوں کے ساتھ رتی میں کمشن نے تبادلہ خیالات کیا۔کمشن کی اپنی رپورٹ خالصہ سر جان سائمن کا نتیجہ فکر تھی۔پہلی جلد کی تیاری میں تو یقیناً کمشن کے سیکریٹریٹ کا بہت سا حصہ ہوگا لیکن یہ جلد محض تاریخی تبصرہ بھی گو اس لحاظ سے نہایت مفید اور قابل قدر تھی۔کمشن کے دونوں سیکر یٹری سید فنڈ لیٹر سٹورٹ اور سر جوزف بھور نہایت قابل تھے۔سرفنڈ لیٹر سٹورٹ انڈیا آفس کے سینئر افسر تھے۔جو بعد میں نائب وزیر بند ہوئے۔دوسری عالمی جنگ کے دوران جنگی محکمے میں انہوں نے نہایت قابل قدر خدمات سرانجام دیں۔سر جوزف بصویرہ انڈین سول سروس کے سنیٹر انسہ تھے۔بعد میں گورنہ جنرل کی مجلس عاملہ کے رکن ہوئے رپورٹ کی دوسری جلد نہایت مایوس کن تھی۔جہاں تک ہندوستان کے آئینی مستقبل کا سوال تھا یہ رپورٹ بالکل بیکار ثابت ہوئی اور عملاً ردی کی ٹوکری میں پھینک دی گئی۔دو ضمنی تائیے کمشن کی سرگرمی سے حاصل ہوئے اول برطانیہ میںاور ہندوستان میں ان تمام امور میں گہری دلچپی پیدا ہو گئی اور تو امور کشن کے روبرو زیر بحث آئے ان کے متعلق سنجیدہ غور وفکر شروع ہو گیا۔دو سے بر طانیہ یہ واضح ہوگیا کہ برطانیہ اور ہندوستان کے با کمی تعلقات کا آخری باب شروع ہو چکا ہے۔اصلاحات کا در رختم ہو رہا ہے اور آزادی کا دور شروع ہونے والا ہے۔ہندوستان کی آزادی کا مسئلہ اب اس مرحلے پر تو یہ کارہ نہیں سکتا تھا۔نہ میں لیبر پارٹی ستانی دوسری بار انگلستان میں بر سر اقتدار تھی۔مٹر ریزے میکڈانلڈ وزیر اعظم تھے۔انہیں شروع سے ہی بنادی