تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 260 of 736

تحدیث نعمت — Page 260

۲۶۰ خلاف کے دوران میں ایک شام مجھے کھانے پر بلایا اور کوئی مہمان نہیں تھا۔میں سمجھ گیا کوئی خاص بات کرنا چاہتے شام ہیں۔آخر بر سر مطلب آئے۔فرمایا سارے ملک کے قضیے تو کانفرنس میں نہ یہ بحث رہیں گے۔پنجاب کے متعلق و تم آپس میں کچھ لے کر لیں میں نے کہ فرمائے۔ایک ایسا نہیں کہ ہم فردا انا اختصات کو خواہ مخواہ سیاست میں نہ گھیٹیں۔میں نے کہا بہت مناسب ہوگا۔کہنے لگے اس کی ابتدا تور یوں ہوسکتی ہے کہ موجودہ قوانین میں سے جو ان اختلافات کو بھڑ کانے والے ہوں ان کی اصلاح ہو جائے۔میں نے کہا بڑی اچھی تجویز ہے۔پو چھا کیا تم رضامند ہو کہ ہمارے ان قوانین کی جن کے نتیجے میں ایسے امتیازات پیدا ہوتے ہیں تنسیخ یا مناسب ترمیم ہو جائے ہے میں نے عرض کیا کہ فرقہ دارانہ امتیازات کے متعلق تو رضامند ہوں لیکن حین قوانین یا قواعد کی غرض پسماندہ طبقات کی اقتصادی حالت کی اصلاح یا اس کا تحفظ ہو ان پر کوئی آنچ نہیں آنی چاہیے۔پوچھا مثلاً؟ میں نے کہا مثلا ایکیٹ انتقال اراضیات - پر مرد گی کے لہجے میں فرمایا تو پر حاصل کیا ہوا؟ میں نے کہا کچھ بھی نہیں ڈیرہ ضائع کیا ؟ اس پر کھلکھا کہ ہنس پڑے۔میں نے رخصت طلب کی ہنستے ہنستے مجھے رخصت کیا۔پنجاب اصلاحات کمیٹی نے خوب محنت سے کام کیا۔جب سائمن کمشن لاہور آیا اور پبلک اجلاس شروع ہوئے تو طبعا پالک کو کمشن کی کاروائی میں بہت دلچسپی پیدا ہوئی۔ان دنوں یونینسٹ پارٹی کی سریر پستی میں ایک ہفتہ وار اخبار بنام دور جدید نیا نیا جاری ہوا تھا۔اس کے ایڈیٹر سید انعام اللہ شام صاحب تھے اور پارٹی کی طرف سے پالیسی وغیرہ کی نگرانی میرے ذمہ تھی۔سائمن کمشن کی کاروائی کے متعلق ہفتہ وار آرٹیکل تیارہ کرنا بھی میرے ذمے تھا۔ایک دن ڈاکٹر کو کل چند نارنگ صاحب نے مجھ سے کہ تمہاری پارٹی کا جو نیا اخبار جاری ہوا ہے اس کا پر یہ مجھے بھی آتا ہے کمیشن کی کاروانی کے متعلقی ہو آرٹ شکیل اس میں چھپتا ہے بہت دلچسپ ہوتا ہے۔میرا ذ کر تو اس میں بڑے ادب سے کیا جاتا ہے لیکن مجھ پر تنقید بھی سخت ہوتی ہے۔ایڈیٹر بہت ہوشیار آدمی معلوم ہوتا ہے۔سر جوگندر سنگھ بظاہر تو یونیسٹ پارٹی کے ساتھ ہمدردی رکھتے تھے لیکن پالیسی اپی چاہتے تھے۔وہ کمشن کے رو بر و بطور گواہ پیش ہوئے تو میاں سر فضل حسین صاحب خاموشی سے آکر ان کے پیچھے بیٹھ گئے بسر جوگندر کو گویا اب دو محاذ پر جنگ کرنی پڑی۔سامنے کمشن اور سمجھے سر فضل حسین تھوڑی ہی دیہ میں ان کے چہرے پر پریشانی کے آثار ظاہر ہونے شروع ہوئے۔دوپہر کو جب اجلاس ملتوی ہوا تو ان کی شہادت ابھی جاری تھی۔پینے کے بعد اعلاس شروع ہوا تو چیئر مین نے بتایا کہ سر ہو گندر سنگھ کی طبیعت ناسانہ ہوگئی ہے وہ بقیہ شہادت کے لئے کمشن کے روبہ و پیش نہیں ہو سکیں گے۔