تحدیث نعمت — Page 220
اور ان کی بادث بہت کا تختہ الٹ دیا۔شاہ امان اللہ خاں نہایت بے سروسامانی کی حالت میں ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔انہوں نے اپنی حیات دنیوی کا بقیہ حصہ ہے وطنی میں ایسی حالت میں گذارا جمہ قرآن کے الفاظ میں معيشتاً ضنكا تکلیف دہ زندگی ) کی عبرتناک مثال تھی اور حسن کی کیفیت لا يموت فيها ولا یحیی آکنه زنده نہ مردہ کی تھی۔فاعتبروا یا اولی الابصار مذاہب کانفرنس میں حضرت جس دن کا نفرنس کے اجلاس میں حضورہ کا مضمون پڑھا جانے والا تھا۔خلیفة المسیح الثانی کا مضمون اس سے پہلی شب خاکسار بعد نماز عشاء اپنے کمرہ میں جاکر سوگیا تھا کہ حضور نے یاد فرمایا۔ناک رہ حاضر ہوا۔بانی بزرگان اور احباب بھی حاضر تھے۔حضور نے فرمایا امرنہ یہ غور یہ ہے کہ کل کا نفرض کے اجلاس میں مضمون پڑھ کہ کون بنائے بعض احباب کی خواہش ہے کہ مضمون میں خود پڑھوں۔بعض کا مشورہ ہے کہ کوئی اور پڑھ کر سنائے۔تمہارا نام بھی لیا گیاہے۔تمہیں اسلئے جایا ہے کہ جن دوستوں کے نام اس سلسلے میں لئے گئے ہیں ان سب سے کچھ حصہ مضمون کا سنا جائے تاکہ اندازہ کیا جا سکے کہ ان میں سے کون اس کام کے لئے موزوں ترین ہوگا۔دو تین اصحاب کو مکان کے مختلف حصوں میں کھڑے ہونے کا اریا و ہوا اور درمیانی دروازے کھول دیئے گئے جن دو تین اصحاب کا نام لیا گیا تھا انہوں نے باری باری مضمون کی چند سطری بلند آواز سے پڑھ کر سنائیں۔اپنے متعلق تو حضور نے فیصلہ فرما دیا تھا کہ مضمون خور نہیں پڑھیں گے۔مشورے کے بعد حضور نے فیصلہ فرمایا کہ کانفرنس میں مضمون خاک رپڑھ کر سنائے۔میری آواز کے متعلق کہا گیا تھا کہ تھرائی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ڈاکٹر حمہ اللہ صاحب کو ارشاد ہوا کہ وہ میرے گے کی ٹنکچر آئیوڈین کے ساتھ مرمت کرتے رہیں۔ڈاکٹر صاحب نے اس فرض کو ایسی مستعدی اور اسقدر تکرار کے ساتھ ادا کر نا شروع کردیا کہ دوسری صبح ناشتے پر مجھے خدمت اقدس میں فریاد کرنی پڑی کہ اگر ڈاکٹر صاحب اسی طور پر خاکسار کے مظلوم گلے پر توجہ مرکونہ فرماتے رہے تو خاک مہ کا نفرنس کے اجلاس کے وقت تک بالکل معذور ہو چکا ہو گا۔حضور نے ارشاد فرمایا کہ ناکارہ کی مزید عقوبت بند کر دی جائے۔مذاہب کانفرنس میں خاکسار کا حضرت ) جب حضور کا نفرنس میں تشریف لے گئے تو حاضرین نے کمال | خلیفہ المسیح الثانی کا مضمون پڑھ کر سنانا احترام سے حضور کا غیر مقدم کیا۔ہرشخص کی خواہش اور کوشش تھی کہ حضور کے ساتھ مصافحہ کرنے کا شرف حاصل کرے۔ایک پادری صاحب نے جو دہلیہ سے تشریف لائے تھے حضور کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر کہا میں آپ کی تصنیف احمدیت یا حقیقی اسلام “ یہاں سے خرید کرلے گیا تھا اور راتوں رات اسے ختم کر لیا۔جب میں نے اسے پڑھنا شروع کیا تو میری طبیعت یہ برداشت نہ کر سکی کہ میں بغیر ختم کئے اسے ہاتھ سے رکھ دوں۔جب حضور کا مضمون پڑھا جانے کا وقت آیا تو حضور نے خاک کر کی طرف تھک کر بیڑی شفقت سے فرمایا گھبرانا نہیں میں دعاکرتا رہوں گا۔حال میں سب نشستیں پیر ہو چکی تھیں۔کر گیا