تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 219 of 736

تحدیث نعمت — Page 219

۲۱۹ سفر پہ رخصت کیا تھا۔اس سال حج کے دوران میں پانی کی قلت کی خبر اخباروں میں شائع ہوئی تھی اس نمبر سے خاکی کو بھی پریشانی تھی اور حضور بھی پریشان تھے۔جب تک ان کی بخیریت واپسی کی خبر ملی حضور متواتہ ان کی خیریت اور حفاظت کے لئے دعافرماتے رہے اور خاک کو تسلی دیتے رہے۔حضرت نعمت اللہ خاں صاحب قیام انگلستان کے دوران میں حضرت نعمت اللہ خالصاحب کی کابل کی کابل میں شہادت میں سنگساری سے شہادت کی خبر پہنچی میں سے حضورہ اور حضور کے رفقاء کے دل دردہ اور غم سے نڈھال ہوئے انا للہ وانا الیہ راجعون۔لندن کے ایکس مال میں ایک احتجاجی جلسہ ہوا۔جس میں سرکردہ اصحاب نے اس ظالمانہ فعل کے خلاف نفرت کا اظہارہ کیا۔اس درد ناک واقعہ کی طرف توجہ دلانے کے لئے میں نے افغانستان کے سفیر متعینہ پیرس کے نام ایک خط لکھا ان دنوں لندن میں افغانستان کا کوئی سفیر متعین نہ تھا، اس خط کی ابتداء میں نے قرآن کریم کی سورہ البروز کی پہلی گیارہ آیات سے کی جین کے آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو عذاب میں مبتلا کیا۔ر اپنے فعل سے، تو یہ بھی نہ کی انہیں یقیناً جہنم کا عذاب ملے گا۔اور اس دنیا میں بھی ، انہیں رول کو ، جلا دینے والا عذاب ملے گا یہ میرا خیال تھا کہ یورپ میں رہتے ہوئے جناب سفیر اپنی حکومت کے اس وحشیانہ اقدام کیا اگر نادم نہیں تو دل میں متاسف ضرور ہوں گے۔مجھے یہ توقع تو نہیں ہو سکتی تھی کہ وہ اپنی حکومت کے اس سیلک اور سرکاری فعل پر یہ لا اظہار افسوس کریں گے لیکن یہ مزدر امید تھی کہ وہ خاموش رہ کر کم سے کم اپنی ذاتی بے تعلقی کا اظہار کریں گے۔لیکن ان کی طرف سے مجھے ایک نہایت خشم ناک جواب ملا حبس کے آخر میں انہوں نے یہ لکھ کر اپنے شعله غیض و غضب کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی تھی۔تم نے تمہاری گستاخانہ پھٹی کے پرندے رتری کی ٹوکری میں پھینک دیتے ہیں کہ وہ اسی لائق تھے۔خاک رنے بیڑے غور اور بہت دعاء کے بعد حضرت خلیفہ المسیح کی خدمت میں درخواست کی کہ اگر حضور پسند فرمائیں تو خاک کو تبلیغ کے سلسلہ میں افغانستان بھیج دیں لیکن یہ درخواست منظور نہ ہوئی۔اس واقعہ کے تھوڑے عرصہ بعد اعلی احضرت امیر امان الله خالصاحب شاہ افغانستان سیاحت یورپ کے لئے تشریف لے گئے۔جہاں جہاں وہ گئے وہاں حکومتوں اور رعایا نے ان کا پر جوش خیر مقدم کیا اور آپ کے شایان شان اخزانہ و احترام کیا۔یورپ کے طول و عرض میں خاص وعام اس بات سے آگاہ ہوئے کہ آپ دره شاہ والا قشم ہیں کہ جن کے فرمان کے تخت ایک معصوم نوجوان کو اختلاف عقائد کی بناء پر سنگسار کیا گیا شاہ امان اللہ اور ان کی ملکہ کا سفر یورپ ہر پہلو سے کامیاب رہا اور آپ شاداں و فرحاں اپنی مملکت کو واپس لوٹے یہاں الہی تقدیر تعز من تشاو تنزل من تث کا نقشہ دکھانے کے لئے ان کی منتظر تھی۔ان کی مراجعت کے چند ی ماہ بعد ایک غیر معروف بے حیثیت بچہ سنفا لیکا یک بگولے کی طرح اٹھا اور دیکھتے ہی دیکھتے شاہ امان اللہ کے اقتدار