تحدیث نعمت — Page 122
بے شک کرو۔مجھ سے جو مشورہ اور رہنمائی چاہو میں دیدیا کروں گا۔دیوانی مقدمات میں عرضیہ کوئی یا جواب دعوی جیسے بھی صورت جو ہر مقدمے میں تباہ کر کے مجھے کھا لیا کرو تاکہ تمہیں مشتق ہو جائے۔بیرسٹر لوگ عموماً دستاویزات کے تیارہ کرنے سے جی چراتے ہیں۔لیکن یہ وکالت کے کام کا بڑا اہم حصہ ہے بہت دفعہ فیصلے کا انحصار عرضی عولی یا جوانی دعوی کی عبارت پہ آٹھرتا ہے۔یہ بہت احتیاط کا کام ہے۔کام کے جس حصے کا تعلق زیادہ تنہ انگریزی کے ساتھ ہو وہ بتدریج تمہاری طرف منتقل ہوتا جائے گا۔تم میرے ساتھ ابتدائی کام میں شریک ہونگے۔لیکن اپیل کا کام میں تمہاری طرف منتقل کرتا جاؤنگا اپیل میں انگریزی میں بحث کرنا آسان رہتا ہے۔میں نے والد صاحب کی ہدایات کا خلاصہ ایک جگہ بیان کر دیا ہے۔لیکن یہ تمام امور انہوں نے بیک وقت ارشاد نہیں فرمائے۔باوجود وکالت پیشہ ہونے کے وہ بہت خاموش طبیعت اور بہایت کم گو تھے۔بات بہت آہستہ کرتے تھے مختصر الفاظ میں مطلب بیان فرماتے تھے۔بعض دفعہ تو سوال کا جواب دینے میں استفدن تاخیر کرتے کہ میرے جیسی عجلت پسند طبیعت بے صبر ہونے لگتی۔مقدمے کی بحث کے دوران میں اگر مخالف وکیل کوئی سوال کرتا یا مچ کوئی بات دریات کرتا تو معاملہ خواہ کتنا واضع ہوتا تا تل اور تزکیہ کے ساتھ جواب دیتے۔جلدی نہ کرتے۔ان کا نمونہ اور ان کی ہدایات میرے لئے مشعل راہ تھیں۔میں نے ان سے بہت فائدہ اٹھایا۔فجزاہ اللہ احسن الجزا لیکن طبائع کی افتقاد کا فرق رہا۔میں جلدی اور تیزی سے بات کرنے کی عادت کو بدلنے میں کامیاب نہ ہوسکا بعد میں جب میں نے چیف کورٹ میں کام کرنا شروع کیا تو بعض دفعہ جج صاحبان فرماتے آہستہ بات کرد تم اتنا تیز ہوتے ہو کہ تمہارا ساتھ دینا مشکل ہو جاتا ہے۔عدالت میں تو بحث کو طول دنیا میں کبھی معمول نہیں رہا۔لیکن اقوام متحدہ کے اجلاسوں میں بعض مسائل پر مجھے بہت لمبی تقریب یکہ نے کی ضرورت پیش آئی۔وہاں میرے رفقا میری لمبی تقریر وں سے دق تو ضرور آتے ہونگے لیکن یہ عنایت انکی ہمیشہ مجھ پر رہی کہ سنتے تو جہ کے ساتھ تھے۔والد صاحب جو مقدمہ میرے سپرد فرمائے اس کی پیروی عدالت کے کمرے میں میں خود ہی کرتا۔والد صاحب اس اثناء میں عدالت کے کمرے میں تشریف نہ لے جاتے۔گو کچھ عرصہ بعد مجھے اپنے ایک منشی سے معلوم ہوا کہ شروع شروع میں جب میں ڈسٹرکٹ حج کی عدالت میں اپیل میں پیش ہوتا تو والد صاحب اسبلاس والے کمرے کے بغل کے کمرے میں جا بیٹھتے اور وہاں سے بحث سنتے۔مسٹر ایچ اتے روز اور سٹر بار کہ جب میں نے سیالکوٹ میں کام شروع کیا تو وہاں پریکٹ ڈسٹرکٹ و سیشن جج اور سیشن جج مسٹر ایچ اے۔روز تھے ان کا مزاج کچھ