تحدیث نعمت — Page 120
۱۲۰ کچھ حق تسلیم کرلیا جائے۔لیکن ہم اس پر رضامند نہیں ہیں۔سردار جیت سنگھ صاحب | سیر سب بچ سردار پریت سنگھ صاحب تھے وہ اپنی ملازمت کی میعاد کے آخر کو پہنچے ہوئے تھے اور چند مہینوں میں پیشن پر سجانیوالے تھے۔جب مقدم بلایا گیا اور فریقین کے وکلا پیش ہوئے۔تو مج صامو نے دریافت فرمایا راضی نامے کی کوئی صورت پیدا ہوئی یا نہیں۔مدعیان کے وکیل صاحب نے گذارش کی کہ مدعا علیہ کچھ بھی تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں۔جی صاحب نے شیخ ظہور الہی صاحب کی طرف مخاطب ہو کہ فرمایا۔آپ جانتے ہیں ہم اس شہر کے رہنے والے ہیں۔ہمیں دونوں فریق سے ہمدردی ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ مقدمہ باندی خواہ مخواہ طول نہ پکڑے۔اگر راضی نامے کی کوئی صورت نہ ہوئی تو ہم یہ دعویٰ تو خارج کر دیں گے لیکن پھر اپیل ہوگی اور بات بڑھے گی۔آئندہ تنازعات کا درداندہ کھلے گا فریقین مقدمہ باندی کے چکہ میں پھنس کر یہ با د ہوں گے۔بہتر ہو کہ کوئی نہ کوئی صورت راضی نامے کی ہو جائے۔میں حیران ہو ر ہا تھا کہ جج صاحب کسقدر سادہ اور بھولی طبیعت کے مالک ہیں۔لیکن شیخ ظہور الہی صاحب حج صاحب کے ہر جملے پر۔آپ بجا فرماتے ہیں۔آپ تو فریقین کیلئے بارہ یہ ماں باپ کے ہیں۔آپ کی ہمدردی میں کیا شبہ ہو سکتا ہے۔" کا راگ الاپنے رہے۔آخرج مصاب نے آئیندہ تاریخ مقرر کی اور فرمایا کہ اگر اس اثناء میں راضی نامہ ہو گیا تو بہتر ورنہ ہم اس تاریخ پر فریقین کی بحث سنیں گے۔یہ میرا ضلع کی ابتدائی عدالتوں کی کاروائی دیکھنے کا پہلا تجربہ تھا۔اور اس کا اثر بہت عرصے تک میری طبیعت پر رہا۔میں نے نہیں مہینے اپنے والد صاحب کے زیر ہدایت سیالکوٹ ضلع کی عدالتوں میں وکالت کا کام کیا لیکن میری طبیعت پر ہو نقش پہلے دن ثبت ہوا وہ مٹ نہ سکا کو کھو اور میری طبیعت ضلع کی علامتوں میں وکالت کے کام کی طرف مائل نہ ہوسکی۔بالکوٹ میں پریکٹس کا آغا نہ / جنوری شاہ میں میں نے والد صاحب کے زیر ہدایت وکالت کا کام شروع کر دیا۔والد صاحب کا کام زیادہ تر دیورانی تھا۔زمین کے مقدمات میں انہیں خاص مہارت اور شہرت حاصل تھی۔جب میں نے پریکٹس شروع کی والد صاحب سیالکوٹ میں دیورانی کے کام میں چوٹی کے وکیل شمار کئے جاتے تھے۔فرمایا کرتے میں فو تعدادی کام سے تو لیتا ہوں لیکن یہ کام میری طبیعت پر گراں ہوتا ہے۔میری طبیعت میں ذمہ داری کا احساس بہت تیز ہے۔زمین کے مقدمات میں یہ سہولت ہے کہ زرعی اراضیات کے متعلق تمام ضروری تفاصیل بر طانوی عملداری کے ابتداء سے مال کے کاغذات میں محفوظ شدہ موجود ہیں۔ہر قطعہ کے متعلق کو ائف اور حقوق ان کا غذات سے مل جاتے ہیں اور اپنی پر مقدمات کے فیصلے