تحدیث نعمت — Page 119
119 کچھ شیخ حسین بخش کے مقدمے میں میری جگہ اپنی حاضری لکھوا دنیا شیخ ظہور الہی صاحب بھی ہمارے ساتھ وکیل ہیں۔آج اس مقدمے میں کوئی کاروائی نہیں ہو گی سنیٹر سب جج صاحب نے راضی نامے کیلئے مہلت دیاری تھی۔راضی نامہ نہیں ہوا۔آج صرف مزید کاروائی کے لئے تاریخ مقر ہوگئی۔اگر کوئی بات چیت کرنا ہوئی تو شیخ ظہور الہی صاحب کر لیں گے۔میں نے مقدمے کے کاغذات دیکھے تو مجھے احساس ہوا کہ ہمارے فریق کو راضی نامے کیلئے کوشش کرنے کی ضرورت نہیں شیخ حسین بخش سیالکوٹ شہر میں بڑے بازار میں دوکان کرتے تھے۔اور اپنی دکان کے مالک تھے۔ان کی دوکان اوراس پاس کی دوکانوں کی چھتیں جو انہیں اور ان کے اوپر کوئی عمارت نہیں تھی۔ان چھتوں کے ساتھ ساتھ ایک گلی جاتی تھی جس پر چند مکانوں کے دروازے کھتے تھے۔یہ کھلی چھتیں ان مکانوں کے رہنے والوں کیلئے ایک قسم کا صحن نظر آئی تھیں۔ان مکانو میں رہنے والے سب ہندو تھے۔کسی اجتماع کے موقعہ پر ان چھتوں پر بہت سے لوگ جمع ہو گئے شیخ حسین بخش صاحب نے کہا کہ ان کی دوکان کی چھت پر جمع نہ ہوں۔ایسانہ ہو کہ چھت کو نقصان پہنچے۔مقابل کے مکانوں والوں نے کہا انہیں دوکانوں کی چھتوں پر شادی غمی کی تقریبوں کیلئے جمع ہونے کا حق آسائیش حاصل ہے۔اور دوکانوں کے مالک نہ صرف اس حق میں مزاحم نہیں ہو سکتے۔بلکہ پابند ہیں کہ دوکانوں کی چھتوں کو اچھی حالت میں رکھیں اوران پر کسی قسم کی عمارت تعمیر نہ کریں بشیخ صاحب نے بندر اس او تا کی تردید کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ محلہ والوں کی طرف سے شیخ حسین بخش صاحب کے خلاف دعوی استقرار یہ دائم کیا گیاکہ ان کا موعودہ حق تسلیم کیا جائے اور مدعاعلیہ کے نام حکم امتناعی جاری کیا جائے کہ وہ اس میں مام نہ ہو اور کسی قسم کی کوئی عمار اپنی دو کان کی چھت پر نہ بنائے۔اول تو وعود نہیں آ ئیش ہی بالکل غیر معین قسم کا تھا۔جو قانو نا قابل قبول اور قابل نفانہ نہیں تھا۔پھر واقعات اس کی تائید میں نہیں تھے مدعیان کی طرف سے تائیدی شہادت بہت کمزور اور تنفاد تھی۔ایسی صورت میں شیخ حسین بخش کو راضی نامے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔میں شیخ ظہور الہی صاحب کو اپنے طالبعلمی کے زمانے سے جانتا تھا۔وہ شیخ فیروز الدین مراد صاحب کے برادر اکبر تھے۔ان کے بھتیجے شیخ عنایت اللہ صاحب ڈسٹرکٹ بورڈ سکول سیالکوٹ میں میرے ہم جماعت تھے۔اور میں کئی بار ا سے ملنے کیلئے ان کے آبائی مکان پر جایا کرتا تھا۔میں کچھری پہنچ کر شیخ ظہور الہی صاحب سے ملا اور مقدمے کے متعلق اپنے تاثمہ کا ذکر کیا۔انہوں نے فرمایا تمہاری رائے بالکل درست ہے۔ہماری طرف سے مقدمہ بہت مضبوط ہے۔مدعیان کی کامیابی کی کوئی صورت نہیں اس لئے ہم کسی راضی نامے پر رضامند نہیں ہو سکتے۔میں نے دریافت کیا۔پھر راضی نامے کی تجو یہ کیسے ہیں ہوئی۔کہنے لگے سنیٹر سب مجھ صاحب سیالکوٹ ہی کے رہنے والے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ مدعیان کا کچھ نہ