تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 106 of 736

تحدیث نعمت — Page 106

1۔4 تخت ہوتا اسلئے قانون کی پابندی بھی ختم ہو جاتی۔یہ دیکھ میرا وہاں نسل کیلئے جانا ختم ہو گیا۔البتہ گریں کے موسم میں میں وہاں کئی با کشتی چلانے کیلئے جار ہا جیسے اس سے پہلے بھی جایا کرتا تھا۔۲۱ کرامول روڈ میں ہم قانون کے طلبا نے MOOTS و مجلس بحث کا طریق بھی بھارہی کیا ہوا تھا۔پہلے Mo7 کیلئے جو قانونی مسئلہ بحث کیلئے چنا گیا اس کا فیصلہ کلکتہ نائی کورٹ میں مسٹر جنٹس MOOT امیر علی نے موہری بی بی نام دھر مود اس گھوش کے مقدمے میں کیا تھا۔ان کا فیصلہ اپیل میں بھی بجھال رہا تھا۔اپیل پہنچ کے فیصلے کے خلاف پر یوی کونسل میں بھی اپیل ہوا۔اور وہاں بھی سید امیر علی صاحب کا فیصلہ بحال رہا۔اب رائٹ آنہ بیل سید امیر علی خود پر یوری کونسل میں جج تھے۔انہوں نے MOOT میں جی بنا منظور کیا، ان کے ساتھ دوسرے بی سر سوز شیو شیپرڈ ہوئے جو تھوڑا عرصہ قبل مدراس ہائی کورٹ کی مجھ سے فارغ ہوئے تھے۔فریقین کی طرف سے دو دو وکیل تھے۔سینئر وکیل تو دو ایسے ظالم تھے جو بیرسٹری کا آخری امتحان پاس کر چکے تھے۔لیکن ابھی بیرسٹری کی سند نہیں نہیں ملی تھی۔اپیلاٹ کی طرف سے سینئر وکیل گجرات کے چودھری عبدالغنی صاحب تھے۔اور ان کے ساتھ ہو نیر میرے ہم جاتے مسٹر محمد حسن تھے۔رسپاڈنٹ کی طرف سے سنیئر وکیل ایک بنگالی صاحب تھے اور میں ان کے ساتھ ہونیر تھا۔یہ تو ظاہر تھا کہ فیصلہ پر بیوی کونسل کے فیصلے کے مطابق درسپاڈنٹ کے حق میں ہی ہو گا۔غرض یہ تھی MOOT میں حصہ لینے والوں کو عدالت میں بحث کرنے کی مشق ہو جائے۔اتفاق ایسا ہوا کہ دونوں طرف کے سینٹر کچھ گھبرائے ہوئے رہے اور اپنا کیسں واضح طور پر پیش نہ کر سکے اور دونوں طرف سے کہیں پر اصل بحث جونئیر وکیلوں نے کی بحث کے آخر میں سید امیر علی صاحب نے فیصلہ سنایا اور بڑی وضاحت سے متنازعہ امور اور مسائل بیان کر کے فیصلے کی تائید میں دلائل بیان کئے۔ان کا فیصلہ ہمارے لئے ایک نہایت مفید سبق تھا۔فیصلے کے دوران میں انہوں نے فریقین کی طرف سے جو بحث کی گئی اس کے متعلق کچھ تعریفی کلمات بھی کہتے MOOT کی کاروائی کے بعد ساتھ کے بڑے کمرے میں بچائے وغیرہ کا انتظام تھا۔حاضرین کی خاصی تعداد تھی۔بیگم امیرعلی و بو بر طانوی نشاد نھیں ) بھی موجود تھیں۔سید امیر علی صاحب نے کمال شفقت سے میرا تعارف بیگم صاحبہ سے کروایا اور فرمایا یہ نو جوان بہت ترقی کرے گا۔چائے کی تقریب کے دوران میں بھی دو تین بار یہ جملہ انہوں نے میرے متعلق دہرایا۔جس سے طبعاً مجھے خوشی بھی ہوئی اور ساتھ ہی بڑی تضرع کے ساتھ میری روح آستانہ الہی پر گری۔یا اللہ تیرے فضل و رحم سے ان کے دل میں میرے متعلق حسن ظن پیدا ہوا ہے۔میں تو نہایت نا پچیز ہوں اور مستقبل مشکلات سے پر نظر آتا ہے۔تو اپنے فضل سے سب مشکلات آسان کرنا اور ان کے حسین من کو