تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 105 of 736

تحدیث نعمت — Page 105

۱۰۵ ہی نقل مکان کر گئے۔یہ مکان پہلے مکان سے دگنا وسیع تھا اور اس کی جائے وقوع بھی نہ یادہ اہمیت کا موجب تھی۔لیکن طبیعت پہلے مکان اور وہاں کی طرز رہائش سے مانوس ہو چکی تھی۔ہم سب تجو وہاں منتقل طور پر رہتے تھے ایک کنبہ کے افراد کی مانندہ تھے۔ایک دوسرے کے مزاج اور عادات سے خوب واقف ہو گئے تھے۔نئے مکان میں نصف سے زاید ر ہنے والے ہمارے لئے اجنبی تھے۔سالہا ما سول ہمارے لئے غیر مانوس تھا۔پھر جنگ شروع ہو گئی۔سارے مکان میں ہم دو ہی ہندوستانی تھے۔دوسرے صاحب ہوشیار پور کے مسٹر محمد طفیل تھے وہ بھی قانون کا مطالعہ کر رہے تھے۔جنگ اور سنگی سرگرمیوں کے متعلق ہمارے جذبات ویسے نہ تھے جیسے بر طانوی بورڈرز کے تھے۔ہر چند میں مسنر فائنزن کا نہایت ممنون تھا اور انگلستان کے عرصہ قیام کے آخر میں ان کا ساتھ نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔لیکن میرا ایل ایل بی کا آخری امتحان قریب آرہا تھا۔اور مجھے یکسوئی چاہیے تھی جو اس نے مکان اور نئے ماحول میں اس حد تک میسر نہیں تھی جس حد تک مجھے مطلوب تھی۔اس لئے تا چاہے کے مہینے میں نقل مکانی کر کے میں نمبر وایکین ایونیو چلا گیا۔یہ مکان آرام دہ سنتھا۔دو خواتین اس کا انتظام کرتی تھیں۔ایک کا ایک بیٹا تیرہ چودہ سال کا تھا اور میں اکیلا مہمان تھا۔یہ جگہ ڈسٹرکٹ ریلوے کے ایک اسٹیشن کے بالکل پاس تھی اس کے قریب کا علاقہ وہی تھا جو ۱۷۵ دی گردو کے مغرب کی طرف تھا۔اور جس سے میں خوب واقف تھا۔اس مکان سے بھی صبح کی سیر کیلئے میں ریو سسر کورٹ پارکٹیں to نه گھومنے پھلا جاتا تھا۔جب میں ۱۵ کنسنگٹن گارڈنر سکوٹیہ میں رہتا تھا تو ایک تجرد من طالب علم نے جو اسی مکان میں رہتے تھے مجھ سے کہا کہ اگر تم پسند کرو تو ہم صبح ناشتے سے پہلے دریائے سرین ٹائین میں بنانے کیلئے چلے جایا کریں اور وہاں تم تیرنا بھی سیکھ لینا۔اس طرح تمہاری سیر بھی ہو جایا کریگی اور کچھ دریش بھی ہو جائے گی۔مجھے کھلی جگہ میں بنانے کی عادت نہیں تھی اسلئے حجاب تھا۔انہوں نے کہا اتنی سویرے بہت کم لوگ وہاں ہوں گے اور کچھ پر سے کا انتظام بھی ہے۔چنانچہ میں نے غسل کا سوٹ خرید لیا اور ہم صبح ہی صبح سرین ٹائین میں بنانے گئے۔مجھے یہ دیکھ کر کچھ اطمینان ہوا کہ بنانے کیلئے ہو جگہ مخصوص نخفھی وہاں نوٹس لگا ہوا تھا کہ کوئی شخص بغیر غسل کا لباس پہنے نہ بنائے۔عورتوں کیلئے کوئی اور جگہ ہوگئی۔یہ جگہ صرف مردوں کیلئے تھی۔اگر یہ قوم ان دو قانون کی بہت پابند تھی۔وشخص بھی پانی میں داخل ہوتا غسل کے لباس میں ملبوس ہوتا۔لیکن ہو ہی پانی سے باہر نکلتا غسل کے لباس کو انا نہ پھینکتا اور تولیہ لیکر بدن کو صاف کرنے میں مصروف ہو جاتا اور اپنے ہم جولیوں کے ساتھ بہاتے یحیت میں لگ جاتا۔غسل تو غسل کے لباس میں ہوتا لیکن جب پانی سے باہر آتے تو چونکہ غسل ختم ہوچکا۔۔