تحدیث نعمت — Page 107
صحیح ثابت کرنا۔میرا سہارا تھی یہ ہے۔اء میں جب میں گرمیوں کی تعطیلات کے سفر کے بعد لندن واپس آیا اور سر ٹامس انٹڈ سے ملاقات ہونے پر ان سے اپنے سفر کا نہ کہ کیا تو انہوں نے فرمایا۔اگر تم جانے سے پہلے میرے ساتھ ذکر کرتے تو میں تمہیں ماسکو اور کاندان جانے کا مشورہ دیتا۔کانیان یو نیورسٹی ایک تاتاری دارد معلوم ہے۔وہاں کے عربی کے پر ونیسر میرے دوست ہیں۔ہمتیں ان سے ملکر خوشی ہوتی۔اس وقت میں نے الیا وہ کیا کہ ۱۹ ء کے گرما کی تعطیلات میں میں وارسا ، ماسکو اور کانہ ان بھاؤں گا۔لیکن جنگ شروع ہو جانے کی وجہ سے اس ارادہ کی تکمیل نہ ہوسکی۔ایک لحاظ سے یہ اچھا ہی ہوا۔گرمیوں کی تعطیلا میں نے لندن میں ہی گزار ہیں اور مجھے ایل ایل بی کے آئندی امتحان کی تیاری کا اچھا موقعہ مل گیا۔حج کرنیکے میرے انتظامات میں میرا سه سالہ قیام انگلستان جب ختم ہونے کے قریب آیا تو وطن جنگ کی وجہ سے رکاوٹ واپسی کا شوق تیز ہونے لگا اور والدین اور عزیزوں سے ملنے کی خوشی کی توقع دل میں موجزن ہونے لگی۔لیکن شروع اگست میں جب انگلستان بھی کچھ نائل کے بعد جنگ میں شال ہوگیا تو جنگ کے نتیجہ میں پیدا ہونیوالی مشکل کے تصور نے دین پر تسلط جمانا شرع کر دیا۔اس سال کی تاخیں کم دور تین نومبر تھیں۔میر امتحان دس اکتوبر کو ختم ہونے والا تھا۔جون کے مہینے میں میں نے ارادہ کیا کہ وطن والپس جاتے ہوئے میں حج کرتا جاؤں۔میں نے ٹامس لک کی معرفت لنڈن سے مارسلینز تک ریل کے سفر کا اور وہاں سے پورٹ سعیدہ تک جہانہ کے سفر کا اور پورٹ سعید سے خالہ یو میل اسٹیمر پہ جانے کا کے سفر کا انتظام کرکے ٹکٹ بھون میں خرید لئے ہوئے تھے۔بجنگ شروع ہونے سے سفر کی سب سہولتیں ختم ہو گئیں۔لنڈن سے مار سلیز تک ریل کا سفرنا ممکن ہو گیا۔اگر باقی سہولتیں میسر بھی آئیں تو بھی لندن سے لیتر تک بحری رستے سے سفر کرنے کے لئے ایک ہفتے کا زائد وقت درکار تھا۔جس کی گنجائش نہیں تھی اسلئے بصد حسرت حج کا ارادہ ملتوی کرنا پڑا۔ٹامس لک نے ٹکٹ واپس لے لئے اور ان کی رقم واپس کردی ، تاروں وغیرہ کے خروج کے بدلے ایک پونڈ و وضع کر لیا۔انگلستان سے واپسی کے سفر کی تیاری | ہندوستان کے سفر کے متعلق بھی پریشانی ہونے لگی۔کیونکہ تمام بحری وسائل سفر حکومت کے ضبط میں آگئے۔ڈاک کا بہانہ ہر ہفتے بمبئی جانا تھا اور بجائے مار سلیز سے ہندوستان کی ڈاک لینے کے لندن سے ہی ڈاک لیکر روانہ ہوتا تھا۔لیکن اب اس پر انڈیا آفس کی معرفت ہی جگہ مل سکتی تھی۔مجھے اندیشہ ہوا کہ انڈیا آفس تو شاید سرکاری افسروں ہی کو جگہ دے العجلان کی انہیں کیا پرواہ ہوگی۔لیکن ان سے درخواست کئے بغیر کوئی صورت بھی نہیں تھی۔چنانچہ میں انڈیا اس مجھے