تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 60 of 736

تحدیث نعمت — Page 60

++ ہر جگہ یہ انتظام کیا کہ انہیں کہیں بھی ہوٹل میں ٹھہرنے کی ضرورت پیش نہ آئے اور میرے کسی دوست کے ہاں مہمان ہوں تاکہ وہ ہندوستان میں اسلامی معاشرے سے بھی کسی قدر واقف ہو جائیں میسٹ بلیزر جب جنوبی اور وسطی ہند کی سیر کر چکے توہمارے پاس شملے آگئے۔کچھ دن وہاں ٹھہرنے کے بعد میں انہیں ے ساتھ پنجاب کشمیر اور صوبہ سرحد کی سیر کیئے لے گیا۔ان کی خواہش خالص دیہاتی علاقہ دیکھنے کی بھی تھی۔چنانچہ میں انہیں اپنے تنہاں دا تہ زید کا سیالکوٹ لے گیا۔جمعہ کا دن تھا چونکہ بہت سے احباب۔اردگرد کے مواضعات کے نمازہ جمعہ کیلئے تشریف لے آئے تھے اسلئے نمانہ کا انتظام بجائے مسجد کے در نیتوں کے سائے میں ایک کھلی جگہ میں کیا گیا۔جیک کیلئے ایک طرف کرسی رکھ دی گئی۔نمانہ کے بعد انہوں نے کہ آج میں نے پہلی بار انسانوں کو اپنے رب کے حضورہ کوع اور سجدہ کرتے دیکھا ہے ہماری عبادت میں تو سر جھکانا نہ یادہ سے زیادہ گھٹنے ٹیک دنیا کافی سمجھا جاتا ہے۔کشمیر سے لوٹتے ہوئے ہم ایک رات اوری کے بنگلے میں ٹھہرے۔شام کا کھانا کچھ تکلف سے تباہ کیا گیا تھا۔شاید خانساماں کو اپنے فن کی نمائش منور تھی۔زرمے میں نہ عفران تو استعمال کیا ہی گیا تھا اوپر سونے کے ورق بھی لگائیے گئے تھے۔پادری صاحب کو بڑی حیرت ہوئی کہ سونا بھی کھایا جاتا ہے۔پہلے تو انہیں یقین ہی نہیں آیا تھا کہ یہ بھی کوئی کھانے کی چیز ہے۔ان کا قیاس تھا کہ یہ زردے کی نشتر یا! نرسمہ رکھی گئی ہیں۔لیکن جب ہم سب تھیوں کو کھاتے دیکھا تو خود بھی کھالیا۔کشمیر کے سفر می کشمیری چائے بھی ان کے لئے ایک عجوبہ تھی۔ایک دو گھونٹ پی لیتے تھے لیکن انہیں مرغوب نہیں تھی۔دس ہفتے ہندوستان میں گزار کر واپس گئے کیمرہ ساتھ لائے تھے پرانی عمار ہیں اور باغات وغیرہ ان کے لئے بڑی دلچسپی کا موجب تھے۔دلی اور آگرے کی شاہی عمارتیں تو ان کے لئے تعجب اور دلچسپی کا باعث ہوئیں۔جو تصویریں انہوں نے اتاریں ان کے سلائنڈ تیار کروائے۔جہاں جہاں ان کی تعیناتی ہوتی سلائڈوں کے ذریعے اپنے حلقہ احباب میں ہندوستان کے تمدن اور معاشرت میں دلچسپی پیدا کرتے۔ان کی آخری تعیناتی نارتھمپٹن میں تھی۔ریٹائر ہو کر و این مستقل رہائش اختیار کر لی اور وہیں فوت ہوئے۔ناروے کی سیر استاد کی گرمیوں کی تعطیلات کے پہلے حصے میں میں نارے گیا یہ سفر دس گیا؟ دن کا تھا۔میں ٹامس کلک کی ایک زائرین کی پارٹی میں شامل تھا۔ولسن لائین کے ایک بہانہ پر سوار ہو کر یہ گن پہنچے اور وہاں گرینڈ سہوٹل میں ٹھہرے۔بہانہ پر میری شناسائی مسٹر ڈا بیسن اور ڈاکٹر کورٹ سے ہو گئی تھی۔اول الذکر ایک سولیسٹر تھے موخر الذکرہ بارک شائر کے رہنے والے تھے اور ڈاکٹری !