تحدیث نعمت — Page 61
کی پریکٹس کرتے تھے۔نام کے جانے کے بعد ہم تینوں سیر کیلئے نکلے اور شہر سے باہر ایک جھیل کے کنائے میٹھے کچھ دیر باتیں کرتے ہے مجھےاس سے پہلے اتنی دور شمال کی طرف آنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا ہ تو معلم تھا کہ خط استوا سے شمالاً جنوبا جسقدر دور ہوتے جائیں اس قدر گر میوں میں دن لیے اور سردیوں میں دن چھوٹے ہوتے جاتے ہیں۔اس کا کچھ تجر بہ انگلستان میں ہو چکا تھا۔ناروے میں دن انگلستان سے بھی لمبا تھا۔اگر بچہ ہم ناروے کے جنوبی حصے میں تھے اور یہ زمانہ پہلی عالمی جنگ سے پہلے کا تھا جب گرسیونی گھڑی ایک گھنٹہ آگے کر لینے کی رسم ابھی شروع نہیں ہوئی تھی۔پھر بھی جولائی کے وسط میں اسکے وقت اندھیرا نہیں ہوتا تھا اور رات کی نیم روشنی بہت بھلی معلوم ہوتی تھی۔دوسرا احساس ہو مجھے اس شام ہوا یہ تھا کہ اگر چہ اندھیرا تو نہیں ہوتا لیکن شام کے بعد بالکل خاموشی ہو جاتی ہے۔روشنی کے لحاظ سے طبیعت میں احساس ہوتا ہے کہ ابھی دن کا ہی عمل ہے اور خاموشی رات کی یاد دلاتی ہے۔اس حالت میں آوازہ بہت دور دور تک سنائی دیتی ہے اور اس سے طبیعت میں یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ ہم اپنے معمول کے ماحول سے نکل کر ایک اجنبی ماحول میں آگئے ہیں پردیس میں علالت | دوسے دن فجر سے کچھ پہلے ہی مجھے بیعت میں بے چینی محسوس ہونے لگی۔نیند کھلنے پر یہ بھی احساس ہوا کہ شاید بخار بھی ہے۔میں نے اپنے آپکو بستر سے اٹھنے کے قابل نہ اکہ تھوڑی دیں تو انتظار کیاکہ عارضی نکلی ہے تو شاید کچھ افاقہ محسوس ہونے لگے۔لیکن بے چینی اور درجہ حرارت دونوں بڑھنے محسوس ہوئے۔اس پر میں نے خادمہ کیلئے گھنٹی بجائی اور اس کے آنے پر اس سے کہا کہ میری طبیعت ناسانہ ہے۔مہربانی سے منیجر صاح سے کہیں کہ وہ مجھ سے اگر مل لیں۔دو جلد آگئے اور میں نے اپنی کیفیت بیان کی۔انہوں نے کہا ہوٹل میں ڈاکٹر موجود ہے میں اسے فوراً بھیجتا ہوں۔ڈاکٹر ھاں تھے تونو جوان لیکن انہوں نے توجہ اور ہمدردی سے میرا معائنہ کیا اور نسخہ لکھا اور کہا میں دوائی بھجوا دوں گا۔میں نے شکریہ ادا کیا اور نہیں ان کے حوالے کی۔دوائی آنے پر میں نے حسب ہدایت دوائی کا استعمال شروع کر دیا۔کچھ دیر تومجھے بے چینی اور حرارت میں کوئی فرق محسوس نہ ہوا بلکہ کچھ نہ باری ہی محسوس ہوئی۔اس اثنا میں مسٹر ڈاسن اور ڈاکٹر کورٹ مجھے دیکھنے آئے اور ڈاکٹر کورٹ نے میرا معائنہ بھی کیا اور تلی کے الفاظ کہے۔ان کے پہلے بجانے کے بعد علاوہ بے چینی اور بخار کی تکلیف کے مجھے شر سے تنہائی کا احساس ہونے لگا اور میرے خیالات کی اور کچھ یوں چلنے لگی :- پچھلے سال میں اپنے ماں باپ بہن بھائیوں دوستوں رفیقوں سے جدا ہو کر انگلستان آیا۔بیشک وطن اور عزیزوں سے جدائی کا احساس تھا لیکن بفضل اللہ مجھے کوئی ایسی مشکل پیش نہ آئی جس سے میں