تحدیث نعمت — Page 59
۵۹ i b سے محفوظ رہیں اور مردار پر بیٹھیں اور بارش کا لطف اٹھائیں۔اوہ بارش سے حفاظت کا صرف اتنا سامان ہوا کر تا تھا کہ بدن کے نیچے حصے کو ڈھانکنے کیلئے چمڑے کے اسپرین ہوا کرتے تھے۔اوپر کے حصے کی حفاظت اور کوٹ اور بولہ ٹو پی کیا کرتے تھے۔ہمارا سفر ایک گھنٹے کے قریب تھا۔سارا وقت تیز بارش ہوتی رہی۔ان کے گھر پہنچنے پر ہمیں اپنے کپڑے جو بھیگ چکے تھے اتار کر مطلع میں لٹکانے پڑے ایک دن ہم بارنٹ سے سینیٹ البنر گئے وہاں ایک مشہورا ہے ہے۔اس دن موسم بہت خوشگوارہ تھا۔ہم ان کے ہاں سے دوپہر کا کھانا کھاکر روانہ ہوئے میں نے وضو کر لیا تھا۔ہم ہیں پر اوپر کے عرے کی دائیں طرف کی ویسے اگلی نشستوں پر بیٹھے تھے جب نمانہ کا وقت ہوا تو میں نے جیب سے کہا میں اب نمانہ پڑھوں گا اور وہیں بیٹھے بیٹھے میں نے نماز ادا کی کئی سال بعد انہوں نے مجھ سے ذکر کیا کہ وہ اس بات سے بہت متاثر ہوئے تھے۔ساہ کے آخری مہینوں میں انہیں مارا نہ یوں (کار نوال ) میں بطور میتھوڈیسٹ پادری مقر کیا گیا۔اس سال کرسمس کی تعطیلات میں میں فالمونتھ کارنوال) گیا۔بھیک نے لکھا تم فالموتھ کے قیام کے بعد دو تین دن میرے پاس بھی ٹھہر وہ چنانچہ فالموتھ سے میں ن کے پاس چلا گیا مارا نہ یوں سے سب سے قریب کا ریلوے سٹیشن تین میل کے فاصلے پر تھا۔لندن واپسی کیلئے مجھے بہت سویرے ریل پر سوار ہونا تھا۔پہلی رات ہم نے پروگرام طے کیا کہ صبح فلاں وقت تک تیار ہو کر ناشتہ کرینگے اور پھر سیدل روانہ ہو جائیں گے میں نے کہا میرا سنگ اٹھانے کیلئے ایک آدمی کی ضرورت ہو گی ابھی سے انتظام کر دنیا چاہیے۔بیک نے کہا انتظام کر دیا ہے سال کا آخرہ تھا دن بہت بچھوٹے تھے۔ابھی اندھیرا ہی تھا کہ ہم ناشتے سے فارغ ہو کر تیار ہو گئے۔میں نے جیک سے پوچھا آدمی آگیا ہے۔انہوں نے کہا حاضر ہے اور میرا بیگ اٹھا لیا۔میں نے خیال کیا مزد در دروازے کے باہر منتظر ہوگا۔باہرآئے تو بیک نے اپنی موٹی چھڑی سنگ کے سینڈل میں سے نکال کر بیگ کو اپنے کندھے پر ڈال لیا۔بیگ خاصا بو قبل تھا۔میں نے اصرار کیا کہ یہی صورت ہے تو تم باری باری بیگ کو اٹھاتے چپلیں لیکن انہوں نے ایک نہ مانی اور اسٹیشن تک اسی طرح بیگ کو اٹھائے پہلے گئے۔بعد میں جب کبھی مجھے انگلستان جانے کا اتفاق ہوتا میں جہاں کہیں ان کی تعیناتی ہوئی ان کے پاس جاتا۔ان کی بیوی اپنی منہایت خلیق اور متواضع تھیں اور ہمیشہ بہت تپاک سے پیش آتی تھیں۔جیک کو ہندوستان دیکھنے کی بہت خواہش تھی۔اس سفر کے لئے موسم سرما موروں ہوتا ہے لیکن ان کے فرائض کے مدنظر انہیں اس موسم میں رخصت ملنے کا امکان نہ تھا۔جس میں انہوں نے فیصت کا انتظام کیا۔پی اینڈ اور بہانہی کمپنی نے رعائتی شرح کرائے پر ان کے واپسی ٹکٹ کا انتظام کر دیا۔ان کے عرصہ قیام ہندوستان میں مینے