تحدیث نعمت — Page 598
۵۹۸ ارشاد کی تعمیل کرنے پرپھوٹ پڑا تھا۔واللہ اعلم بالصواب۔میرا پہنچے تو سامنے ایک سہ منزلہ عمارت نظر آئی جو پیار کی ان کو تراش کر تیارکی گئی تھی۔یہ میرا کسٹم اسناد پر تجارتی الی یوپی میں داخل ہوتا میان محصول داکترتا چونکہ شہر میں داخل ہونے کا اور کوئی رستہ نہیں تھا محصول کی وصولی نہایت آسان تھی کسٹم ہاؤس کو بائیں ہاتھ چھوڑ کہ ہم ایک وسیع میدان میں داخل ہوئے جس کے گرد پہاڑی لال قلعے کی فصیل کی ماند تھا۔میدان کے درمیان میں بھی یوں کا ایک سال تھا۔ایسے علم ہوتا تھاکر بیان کی عمارتوں کے کنات پریٹی کے ابنارم جان سے لیے بن گئے ہیں لیکن میدان کے گرداگرد پہاڑیوں سے تراشی ہوئی عازمیں ایک محفوظ چلی آتی ہیں۔ہم ان میں سے بعض کے اندر بھی گئے اور نکی صنعت کاری کے نمونے دیکھ کر حیران ہوئے۔پہاڑ کا پتھر سرخ رنگ کا ہے لیکن اس میں جا بجا رنگا رنگ لہریں ہیں۔ایوان عدل کے بڑے مال کی چھت کو بھی چٹان تراش کر بنائی ہوئی ہے ایک بوقلمون مرتع قالین دکھائی دی ہے اور اسے معلوم ہوتاہے کہ ابھی بھی بنائی گئی ہے۔پیر کے عبابت کو تفصیلی طور پر دیکھنے کےلئے بھی کئی دن درکار ہیں۔ایران کے وسط میں ایک ہوٹل ہے۔مہمانوں کی رہائش کا انتظام خیموں میں ہے۔وزائرین پیٹرا اس رات بھر یا اس سے زیادہ عرصہ پھر نان چای ہ یہاں قیام را کر پیٹا کا تفصیلی معائنہ کرسکتے ہیں اور ان میں سے صاحب بصیرت عاقبة المكذبين رتھیوں نے الوں کا انجام پر غور کر کے عبر حاصل کر سکتے ہیں پیٹرا کی داد سےباہر آنے پر دور کا کھاناہم نے میٹر کے فوجی دستے کے افسران کے ساتھ کھایا اور جنگ میں ان کی پر تکلف ضیافت کے نہایت ممنون ہوئے تمام الہ 1946 جلالتہ الملک حسین بن طلال کے ساتھ آخری ملاقات بون شاہ کے نہایت اندرو مناک واقعات کے بعد پھر لندن میں ہوئی۔اسی شام جلالة الملک پرس تشریف لیجانے والے تھے گفتگو کا موضوع طبعا شرق اوسط کے المناک حالات تھے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔دیل کا خطر ناک حادثہ جس سے اللہ تعالی سال کے اواخر کے سفر دمشق ، تہران ، ارون کے خاتمے پر کے معجزانہ طور پر محفوظ رکھا۔کراچی واپس آگیا۔چند دن بعد جنوری اور میں مجھے لاہور میں - جانا پڑا۔لاہور سے ۲۰ جنوری کی شام کو کراچی کے لئے روانہ ہوا۔میری سیلون گاڑی ۲ ڈاؤن میل کے پشاور سے آنے پر میل کے عقب میں لگا دی گئی تھی جب میں پلیٹ فارم پر پہنچا تو اسسٹنٹ سٹیشن ماسٹر صاحب نے فرمایا سیلون ٹرین کے آخر میں ہونے کے سبب آپ ریل کی حرکت زیادہ محسوس کریں گے جس سے آپ بے آرام ہوں گے۔اگر آپ پسند کریں تو آپ کی گاڑی ٹرین کے درمیان میں لگادی جائے۔اکثروز را صاحبان اپنے سیلون کار بیان میں ہونا پسند کرتے ہیں۔میں نے کہا میں آپ کی توجہ کا ممنون ہوں لیکن اس اول بدل میں کچھ وقت صرف ہو گا جس سے تمکن ہے ٹرین کی روانگی میں کچھتا خیر ہوجائے میں اپنے آرام کی خاطر دو سے مسافروں کیلئے باعث تصدیعہ نہیں بنا چاہتا۔سیلون جہاں ہے وہیں ٹھیک ہے۔گاڑی کے روانہ ہونے پر زور کا بھٹکا محسوس ہوا جس سے مجھے کچھ پریشانی ہوئی گاڑی چھاؤنی کے