تحدیث نعمت — Page 572
۵۷۲ کی آزادی کی کشمکش زیادہ ہی ہوگی اور تحصول آزادی کیلئے الجزائر والوں کو قربانی بھی زیادہ دینا پڑے گی۔تونس اور مراکش کی آنہ ادی کا مسئلہ | سبب تونس کا مسئلہ اسمبل میں زیر بحث آیا سید احمد شاہ صاحب بخاری کی تو اس وقت اقوام متحدہ میں پاکستان کے معقل نانی سے رائے تھی کہ اقوم متحدہ کے میثاق کے فقرہ ہبر کی شق نمبر، ضرور رستے میں حائل ہو گی۔میری دلیل کو وہ چنداں وزن نہیں دیتے تھے لیکن دوران بحث کوئی ایسی شکل اس سوال کی وجہ سے پیدانہ ہوئی اور بخاری صاحب بھی نہ صرف مطمئن ہوگئے بلکہ بڑی مضبوطی سے اس موقف کی تائیک کرتے رہے کہ تونس اور مراکش کی آزادی کا مسلہ بین الاقوامی مسئلہ ہے فرانس کا داخلی مسئلہ نہیں۔جب فرانسیسی وفد نے یہ دیکھا کہ پاکستان تونس اور مراکش کی حمایت میں پیش پیش ہے تو تو کس کے مسئلے پر بحث کے دوران میں ان کی طرف سے ایک بہت دیدہ زیب پمنٹ اراکین اسلیمی تقسیم کیا گیا میں اعداد شما سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ تونس رفاہ عام کے ہر شعبہ میںپاکستان سے کہیں آگے ہے۔ایک صبح یہ پیلٹ اجلاس شروع ہونے کے درخت پر ملک کے نمائندے کے میز پر پایا گیا میں نے جلد جلد اس کی ورق گردانی کی اور اسے ایک طرف رکھ دیا اس پینٹ میں چونکہ تونس ویرا کا مقابلہ صرف پاکستان سے کیا گیا تھا۔اس لئے اس سے یہ ظاہر کرنا مقصودنا کہ آزادی کے باوجود پاکستان میں رفاہ عام کے شعبوں میں ترقی کی رفتار تونس سے بہت ہمت ہے اور تونس کی ترقی کی رفتار فرانس کے زیر اقتدار ہونے کی وجہ سے ہے جب میں یہ پمفلٹ دیکھ سکا تو آغا شاہی صاحب نے جو مرے ساتھ کمیٹی میں معاون تھے اسے اٹھا لیا اور اس کے مطالع میں مصروف ہو گئے۔تھوڑی دیر بعد گھر اس میں مجھ سے فرمایا کہ پاکستان کے یہ اعداد و شمار تو اس پمفلٹ میں دیے گئے ہیں آزادی سے پہلے کے ہیں۔آزادی کے بعد پاکستان میں بہت سے شعبوں میں نمایاں تمرینی ہوئی ہے جیسے اس پمفلٹ میں ظاہر نہیں گیا۔ہم آج ہی اس کا جواب تیار کرلیں گے۔آپ کتنی عیدی جواب دینا چاہتے ہیں؟ میں نے ان پر درانی کے لیے ہی کیا کوئی جلدی نہیں۔انہوں نے محسوس کیا شائد میں پمفلٹ کی اہمیت کو نہیں سمجھا۔تھوڑے عرصے بعد پھر کہا۔میں جاکر اعداد ار کی پرتال شروع کروں ؟ میں نے پھراسی لیے میں کہا آپ رحمت نہ کریں۔انہوں نے چند منٹ صبر کرنے کے بعد پھر کہا صاحب اس کا جواب تو ضرور ہونا چاہئے۔میں نے پر یہ کہ کرا دیا دیکھا جائے گا۔اس پر وہ خاموش تو ہو گئے لیکن ان کا اطمینائی نہ ہوا۔آخر جب میری طرف سے جواب کا وقت آیا تو جہاں تک اس پیمنٹ کا تعلق تھا میں نے کہا میں افسوس ہے کہ ان سائل پر حب کے دوران فرانسی نیند میں املی کے اس سے لے کر چلے جاتے ای یار اس کا ایک کی روشنی نہیں ڈالی جاتی اسلئے ہی ان کے نقطہ سے آنا ہی نہیں ہوتی لیکن تم منو میں کہ آج انہوں نے کسی حد تک ہماری لاعلمی کے اندامے کسی اسیس منانے کے لیے کہ و اوار این عملی می تقسیم کیا گیا ہے۔ممکن ہے بعض اراکین ابھی ان اعدادو شمار کا تجزیہ نہ کر پائے ہوں تو اس پمفلٹ میں درج ہیں اور اس لئے ان سے صیح نتیجہ اخذ کرنے کے قابل نہ ہوں لہذامیں ان کی اطلاع کے لئے ہر صحے کا خلاصہ نہیں سنا دیتا ہوں۔چند منٹوں کی هم