تحدیث نعمت — Page 573
۵۷۳ یں پاکستان کی نسبت کہیں آگے ہے۔مسئلہ زیر بحث ہے کہ تونس نے بارود کے معاہدے کی رو سے بعض اختیارات اس غرض سے فرانس کے پر رکھے تھے کہ فرانس ان اختیارات کو استعمال کرکے قونس کے داخلی شعبوں میں مناسب اصلاح کردیے تونس کا کہنا ہےکہ فرانش معاہدے کے مقاصد کو لیا کر چکا ہے اس لئے اب وہ اختیارات تو فرانس کو تفویض کئے گئے تھے تو ن کو دائیں ہونے چاہئیں۔فرانس کی طرف سے اس پینٹ میں یہ بوت نہیں کیا گیا ہے کہ تونسن نے شعبوں میں استدار ترقی کی ہے کہ وہ پاکستان سے بھی کہیں آگے نکل گیا ہے۔ہم اسے درست تسلیم کرتے ہوئے فرانسیسی فاضل نمائندوں سے صرف ایک سوال کرتے ہیں کہ اگر حقیقت ہی ہے جو پمفلٹ میں ظاہر کی گئی ہے تو کیا وجہ ہے کہ پاکستان تو آج سے پانچ سال قبل آزاد ہو چکا ہے اور تونس جو پاکستان کی نیتاس قدر ترقی یافتہ ہے ابھی آزادی کے قابل نہیں سمجھا جاتا؟ غرض نہ تونس کے متعلق نہ مراکش کے متعلق فرانس کوئی ایسی دلیل پیش کرنے کے قائل تھا جس کی نباید ان مالک ادا کیا این نگران با این اقوام متحدہ میں ان کے اور روس کی وجہ سے ایام میں اس سے بیان مول توتا یا۔ایک بار فرانس نے جھنجھا کر سلطان مراکش و جلا وطن کر دیا اور انکے مقابل پات آن مراکش کو کھڑا کرنے کی کوشش کی لیکن اس اقدام کے خلاف ملک بھرمی ایسے ہوش کا احتجاج ہواکہ تھوڑے عمر میں سلطان فاتحانہ حیثیت میں واپس لوٹے ور پاشان مراکش نے درباری گھٹنوں کے بل چل کران کی اطاعت ا علان کیا اور اپنے قصر کی معافی طلب کی۔جب امیلی یں یہ قصہ خاطر خواہ طور پر سمجھ نہ سکا توی مسائل ملی ان کے زیر ٹور آئے۔اس عرصے میں پاکستان مجلس امن کا کین ہوچکا تھا اور پاکستان کے قالی نانی سید احمت و صاحب بخاری نے ان ملکوں کی آزادی کی حمات کو نہایت سن طور پر نبھایا۔فجزاه الله اسید احمد بلا فریج کے پاکستانی پاسپورٹ کا معاملہ اس دوران میں السید احد الا فریج تو راکش کے حزب استقلال کے سیکریٹری تھے اور ملک کی آزادی کی جدو جہد میں صف اول میں پیش پیش تھے اور جن کے میرے اتھ گہرے دوستانہ مراسم قائم ہوچکے تھےمجھے نو یار میں سے ان کے پاسپورٹ کی میعاد ختم ہونے والی بھی کرہ پاسپورٹ کی تجدید یا توسیع کے لئے پریش یار باط جاتے تو نہیں اندیشہ تھاکہ انہیں ضرور نظر بد کردیا جائے گا اور وہ نیو یارک واپس نہ آسکیں گے انہوں نے مجھ سے اس مشکل کا تذکرہ کیا۔میں نے انہاس اطمینان دلایا کہ وہ پریشان نہ ہوں کیونکہ اس مشکل کا حمل آسان ہے۔میں نے انہیں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے کا بلا تنخواہ مشیر اقوام تند تر کر دیا دوران ان کی سرانجام دی کےلئے انہیں پاکستانی پاسپورٹ دیدیا۔میرے کرا چو آپ آنے کے چند دن بعد فرانسیسی سفر ہر ایک سنسی موسیو اور مجھے ملنے آئے اور فرمایا میری حکومت نے مجھے ہدایت دی ہے کہ میں انکی طرف سے السید محمد بالا فریج کو پاکستانی پاسپورٹ دیے جانے کے خلاف احتجاج کریں۔