تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 509 of 736

تحدیث نعمت — Page 509

0-9 حد بندی کمشن کے رو بہ و بحث لا حاصل | مجمعہ کا باقی دن اور ہفتہ اور اتوار دونوں دن بحث کی تیارہ میں صرف ہوئے۔سوموار کو کمشن کے رو بہ د بحث شروع ہوئی فریق مخالف کی طرف سے مسٹر موتی لعل سیلواڈ جو ہم کے بعد بھارت کے اٹارنی جنرل مقرنہ ہوئے نے بحث کی۔ان کے معاونوں اور مشیروں میں چیدہ چیدہ ہند وکلاء شامل تھے جن میں بخشی ٹیک چند صاحب پیش پیش تھے۔عبدون بحث ختم ہوئی اس سہ پر کومسٹر موتی لعل ستلوار شیخ عبد الحق صاحب ایڈوکیٹ کے ہاں چائے پر مدعو تھے۔چائے پر انہوں نے شیخ صاحب سے فرمایا اگر حد بندی کا فیصلہ بحث میں پیش کردہ دلائل کی بنا پہ ہوا توتم لوگ بازی نے جاؤ گے ؟“ لیکن کمشن کی کاروائی ڈھونگ اور کمشن کے رو سر بحث مباحثہ بالکل لا حاصل تھا۔سرسید مراتب علی صاحب مرحوم کی قیام لاہور کے دوران میں میرے معزنا اور محترم میزبان سرسید مران بلی بے غرض روائتی مہمان نواز ہی صاحب مرحوم نے میرے اور میرے رفقاء کی خدمت میں کوئی دقیقہ نہ اٹھا رکھا ہم سب کے دل ان کے بے شمار اسانوں اور عنایتوں کے احساس سے پر تھے۔فجراہ اللہ احسن الجزاء - چونکہ ان ایام میں ان کا دو لنکہ کمشن کے رو بر مسلم لیگ کی نمائندگی کا مرکز بن گیا تھا اسٹے خوردو نوش کے سلسلے میں ان کی مہمان نوازی بہت وسیع ہوتی گئی لیکن یہ امران کی دلی راحت کا موجب ہوا اور انہوں نے یہ فرض اپنی روائتی فراخ دلی اور خندہ پیشانی سے سرانجام دیا۔بحث کے لئے ہم سب کے عدالت جانے اور وہاں سے لوٹنے کے لئے سواری کا انتظام بھی سید صاحب فرماتے رہے۔غرض تواضع کاکوئی پلوسی وقت ان کی باریک بیں نگاہ سے اوتھل نہ ہوا۔انہوں نے یہ سب خدیت اور تو صلح اس اعلی پیمانے پر ایسے حالات میں سرانجام دی جب ہر طرف نفسا نفسی کا عالم تھا اور یہ سب فرائض انہوں نے خالفند رضا کارانہ طور پر اپنے ذمے لئے تھے۔قائد اعظم کا اظہار خوشنودی | میں بحکے سلے میں ابھی اور ہی میں نا کہ اے قائداعظم کا پیغام ملا کے کمشن سے فارغ ہونے کے بعد میں ان کی خدمت میں حاضر تو کر بھوپالی جائیں۔انہوں نے کمال شفقت سے شام کے کالے کی دعوت دی حاضر ہونے پر معاشقے کا شرف بخش اور فرمایا میں تم سے بہت خوش ہوں اور تمہارا نہایت ممنون ہوں کہ جو کام تمہارے سپرد کر دیا گیا تھام نے اسے اعلیٰ قابلیت سے اور نہایت احسن طریق سے سرانجام دیا۔کھانے کے دوران یں طریقہ تقسیم اور کاروائی تقسیم کے موضوع پر گفتگو رہی۔آپ سے رخصت ہو کہ میں بھوپال چلا گیا۔پنجاب کی حد بندی کے متعلق سعد بندی کے فیصلے کے اعلان میں دیر ہوتی گئی۔فیصلے کا اعلان 14 اگست کو ہوا۔ریڈ کلف کا غیر منصفانہ فیصلہ ان دنوں میں بھوپال میں تھا۔ریڈیو پر فیصلے کا اعلان سنکر مجھ پر کتے کا عالم طاری ہو گیا۔فیصلے میںحد بندی کی تقریب وہی لائن مقرر کی گی جس پر حد بندی کے تنازعہ کے متعلق فریقین کے تحریری بیانات کمشن کے رو برو پیش ہونے سے بھی دو دن پہلے ریڈ کلف نے معائنہ کے لئے پر روانہ کا ارادہ ظاہر کیاتا