تحدیث نعمت — Page 510
۵۱۰ جو موسم کی خرابی کی وجہ سے پورا نہ ہو سکا۔جب کہ پہلے بیان کیا گیا ہے پروانے کے لئے پائلٹ کو جو ہدایات نہیں ان کا نقہ سیٹس دین محمد صاحب کے ہاتھ لگ گیا تھا اور اسے دیکھ کر انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا تھاکہ باندی اکشن کی کاروائی صرف ایک ڈھونگ ہے اور جو لائن پروانہ کی ہدایات والے نقشہ میں دکھائی گئی ہے وہی لائن بالا بالا پنجاب کی تقسیم کے لئے محد بندی کی لائن مقر کی جا چکی ہے جس کے مطابق مسلم آبادی کی اکثریت والے کئی علاقے بالخصوص تحصیلات گورداسپور اور بٹالہ پاکستان کی بجائے ہندوستان میں شامل کئے جائیں گے۔حسبدن ریڈ کلف نے پنجاب باؤنڈر کیش کے اراکین پر اپنے معائنہ کے ارادے کا اظہار کیا اس دن انہیں ہندوستان آئے ابھی صرف کچھ دن ہوئے تھے۔وہ ۸ جولائی کو دلی پہنچے تھے اور ایک دو دن کے قیام کے بعد نگال باؤنڈری کمشن کے سلسہ میں کلکتہ چلے گئے تھے۔جہاں سے وہ سمار جولائی کو لاہور آئے۔یہ بات ناقابل یقین ہے کہ ان دو ایک دنوں میں جو دہ وتی میں بھرے انہوں نے نجاب کی تقسیم کے تنازع کا خود مطالعہ کا ہو اور بغر فریقین کے عادی کوئنے حدبندی کے لئے خود ایک ائن تو نہ کرکے اس پر معائنہ کے لئے پروانہ کا فیصلہ کیا ہو۔اس وقت تک وہ نہ پنجاب حد بندی کمشن کے اراکین سے ہی لے تھےنہ متعلقہ فریقین کے بیانات ہی دیکھے تھے۔ظاہر ہے کہ حد بندی کی یہ لائن کسی اور نے تیار کرائی اور اس کا معائنہ کرنے کی انہیں ہدایت دی۔یہ صرف قیاس ہی نہیں بلکہ اس بات کا ناقابل تردید ثبوت موجود ہے کہ پائلٹ کی ماریات پر خانہ والا نقشہ مونٹ بیٹن کے چیف آف سٹاف لارڈ اسے کے دفتر میں تیار کیا گیا تھا۔جیسا کہ پہلے لکھا گیا ہے ہدایات پرداز والانقشہ دیکھ کر بی شیخ دین محمد صاحب نے جس اندیشے کا اظہار کیا تھا وہ انہوں نے قائد اعظم سے بیان کر کے حد بندی کمشن سے متعفی ہونے کی اجازت چاہی تھی۔ان اعظم نے کمشن سےمستعفی ہونے کی اجازت تو نہ دی لیکن ، راگست ء کو جسٹیس دین محمد صاحب کی رپورٹ کی بنا پر انہوں نے چودھری محمد علی صاحب کی زبانی لارڈ اسمے کو ایک پیغام بھیجا کہ پنجاب کی تقسیم اور بالخصوص ضلع گورداسپور کی تقسیم کے متعلق انہیں تشویشناک رپورٹیں مل رہی ہیں اور اگر حد بندی وہی قرار پائی جس کے متعلق اطلاعات مل رہی ہیں تو اس سے پاکستا وجد اور انگلستان کے تعلقات متاثر ہوں گے۔چودھری محمد علی صاحب اپنی قابل قدر تصنیف جس کا نام ہے میں لکھے ہیں کہ وہ یہ پیغام لیکر لارڈ اسے سے ملنے EMERGENCE OF Pakistan " وائسرائے ہاؤس گئے۔اسمے اس وقت ریڈ کلف سے مذاکرات میں مصروف تھے۔چودھری صاحب نے انتظار کیا کوئی گھنٹہ بھر بعد اسے فارغ ہوئے تو ان سے ملاقات ہوئی۔چودھری صاحب نے قائد اعظم کا پیغام پہنچایا اسمے نے کہا کہ انہوں نے یا مونٹ بیٹن نے حد بندی کے معاملہ میں ریڈ کلف سے کبھی کوئی بات نہیں کی اور انہیں اس امر کے متعلق ریڈ کلف کے خیالت کا کوئی علم نہیں۔انہوں نے وضاحت سے کہا کہ حد بندی کے متعلق ریلیف کو ان کی یا مونٹ بیٹن کی طرف سے کوئی مشورہ نہ دیا گیا ہے نہی دیا جائے گا۔جب چودھری صاحب نے اس رپور