تحدیث نعمت — Page 508
۵۰۸ جو ہدایات پر وانہ میں دکھائی گئی ہے۔اب ہماراست ہے کہ ان کی مجوزہ پر ان کی عرضی دریافت کریں اوریہ بھی دریا کریں کہ اس لائن پر پیدا نہ کرنے کا کس نے مشورہ دیا اور اس کی کیا اہمیت ہے۔اگر ظاہر ہو کر کسی دوسرے شخص نے مشورہ دیا ہے توہم کہ سکتے ہیں کہ بھی ایمپائر کی غیر جانبداری پر اطمینان نہیں رہا لہذا کمشن کے پاکستانی نمائندے استعفے دے رہے ہیں۔جسٹس دین محمد نے فرمایا میںاپنی طرف سے ہرممکن کوشش کروں گا اور پرسوں صبح دتی سے واپسی پر نہیں اپنی ملاقات کے نتیجے سے مطلع کردوں گا۔جمعرات کی شام تک تحریری بیان کا مسودہ تیار ہوگیا۔میں نے سردار شوکت حیات خالی صاحب کے دولت نیچے پر ٹیلیفون کیا تو معلوم ہوا کہ سردار صاحب کی طبیعت ابھی تک علیل ہے بخارہ کا درجہ حرارت ۱۰۲ ہے اسلئے ٹیلیفون پر آنے سے معذور ہیں۔پھر میں نے میاں ممتاز محمد خاں صاحب کی خدمت میں ٹیلیفون پر عرض کیا کہ میں چاہتا ہوں آپ اور سردار صاحب دونوں تشریف لاکر مسودے کا ملاحظہ فرمالیں لیکن سردار صاحب تو ناساندی طبع کی وجہ سے معذور ہیں لہذا آپ ضرور تشریف لائیں اور تحریری بیان کا مسودہ دیکھ لیں۔چنانچہ وہ تشریف لے آئے۔میں نے تحریری بیان کا مستوردہ ان کی خدمت میں پیش کیا اور گذارش کی کہ آپ اسے پڑھ لیں اور ہو تمیم آپ اس میں پسند فرمائیں وہ مجھے بتادیں تا کہ آپ کے ارشاد کے مطابق اصلاح کر دی جائے۔انہوں نے فرمایا جو کچھ تم نے لکھا ہے ٹھیک ہی ہوگا۔مجھے پڑھنے کی ضرورت نہیں۔میں نے اصرار کیا آپ ضرور توجہ سے اسے پڑھیں اور آزادی سے تنقید کریں میں سلم لیگ کی طرف سے بحث کرنے کی خاطر اطمینان چاہتا ہوں کہ لیگ کی طرف سے مجھے کیا بات ہے۔جس صوبے کی آپ تصدیق فرما دیں گے وہی میرا ہدایت نامہ ہو گا اور اسی کے مطابق میں بحث کروں گا۔میرے اصرار پر میاں صاحب نے سودہ توجہ اور غور سے پڑھا اور پڑھنے کے دور میں بھی پسندیدگی کا ہر فرماتے رہے اور آخر میں فرمایا اسے بہتر تحریری بیان نہیں ہو سکتا۔مسلم لیگ کی طرف سے تحریری بیان پیش کر دیا گیا جمعہ کی صبح میں نے سوتے کی آخری نظرثانی کی اور صاف ٹائپ ہونے کے لئے دیدیا۔جسٹس دین محمد صاحب دلی سے واپسی پر سٹیشن سے سیدھے میری جائے قیام پر تشریف لائے اور بتایا کہ قائد اعظم استعفے کی تجویز پر رضامند نہیں ہوئے انہوں نے فرمایا ہے تم سب لوگ اپنی طرف سے لیوری کوشش کرو امید ہے سب کچھ ٹھیک ہوگا۔مستورده صاف ٹائپ ہوگی تو میں نے شیخ نار احمد صاحب ایڈ کیٹ کے سپرد کیا اور وہ اسے باؤنڈری کمشن کے دفتر میں بارہ بجے سے قبل داخل کرہ آئے مسجد محمدیہ میںجمعہ کے خطبہ میں یں نے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس مشکل وقت میں آستانہ الہی پرگرنے اور بہت خشوع اور عاجزی سے دعائی کرنے کی تاکید کی۔1