تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 390 of 736

تحدیث نعمت — Page 390

۳۹۰ منصف کے پڑھو نا چاہئے۔پہلے سے یہ نیت کر لیا دوسرا فریق تو ان الفاظ سے یہ مطلب لیگا لیکن ہم وقت آنے پہران الفاظ کی کچھ اور تغیر کریں گے دیانت کے خلاف ہے۔مسٹر مہ لانے فرمایا بابو جی تو ایسا ہی کرتے ہیں۔اس وقت تو مجھے خیال ہوا کہ مریلا کو گاندھی جی کی کسی بات سے غلط فہمی ہوئی ہوگی لیکن بعد می جب کئی بار کانگریس کی قیادت نے تعبیر کے بہانے معاہدات کو بدلنے کی کوشش کی اور اسی آڑمیں ان کی خلاف ورندی کی تو مجھے مسٹر بہ لا ی بات پر یقین کرنا پڑا کی کینٹ مشن کی تجویز مسلم لیگ اور کانگریس دونوں نے منظور کر لی تھی پنڈت جواہرال ریکی تیروں کا شکار ہوگی اور وزیراعظم ایل جیسے نسیم نے شادی امام ہی ہم نے ملک کی تقسم کے بغفر یار نہیں بھر کشمیرمیںآرا شماری کے متعلق تپیڈت جی کے متعدد وعدے اور اعلانا اور اقوام متحد اور کمشن کی قراردادی جنہیں وہ سیم لوچلے تھے بعد کا شکار ہو گئیں جس کے نتھے میں صغیر کا اس برسوں سے خدشے میں پڑا ہوا ہے اور میر شائر میں تو باہم جنگ تک بھی قوت پہنچ گئی۔۱۹۶۵ یہ تو میرے مشاورتی وند کا حال تھا۔ادھر کر نل ٹیلے سے ملاقات کے لئے ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ بھرے بیٹھے تھے۔علیک سلیک کے بعد فرمایا: ظفر اللہ ! میں تو سوچ رہتا ہوں کہ پچھلی مرتبہ اس مسئلے کا سو فیصد کینٹ نے میری مرضی کے خلاف کا تھا اس پر استجاج کرتے ہوئےمیں استعفی دیدوں! میں نے کہا سینے مجھے تویہ سنکر کوئی تر پیدا نہیں ہوا۔اول توآپ نے استعفے دینا ہوتا تو ہی وقت دیدیتے۔دوسرے یہ آپ کا اور وزیر اعظم یا کینٹ کا ملا ہے میرا اس میں کیا دخل ہے۔تیرے آپ استعفیٰ دیدیں گے تو آپ کی جگہ بورڈ آف ٹریڈ کا کوئی اور مصادر مقر ہو جائے گا۔میں اس سے بات چیت کر لوں گا۔بیشک مجھے افسوس ہو گا کہ جس شخص کے ساتھ میرے آٹھ سال سے دوستانہ مراسم ہیں اس کے ساتھ اس معالم میں گفت و شنیدہ ہوگی لیکن یہ بھی کن ہے کہ جو اب کی جگہ مقر ہوں ان کو نکا شائر کی استقدر حمات منظور نہ ہو جتنی آپ کو اپنے خاندانی تعلقات کی وجہ سے ہے اور میرے کام کی مشکل کچھ کم ہو جائے۔بہر حال ہم نے آپس میں دو حکومتوں کے نمائندوں کے طور پر بات چیت کرنا ہے۔اس کے ساتھ آپ کے استعفے دینے یانہ دینے کا کوئی تعلق نہیں۔وہ کچھ حیران ہوئے کہ اپنے زعم میں جس بات کو انہوں نے ایک اہم اور موثر ا علان خیال کرتے ہے مجھے تشویش میں ڈالنے کی خاطر بیان فرمایا تھا اس کا جو کہ کچھ بھی اثر نہیں ہوا۔میں اتنی صفائی کے ساتھ ان سے بہتا نہ کرتا لیکن مجھے اندیشہ تھاکہ گرمی نے استعفے والے معاملہ ی رسمی طور پر بھی انوس یا تشویش کا اظہار کیا تو انہیں نے موقف پر اڑے رہنے کا حوصلہ ہو جائیگا۔استعفے کا ذکر ان سے سنکہ مجھے یہ یہ اثر ہو کہ یہ صاحب کمزور طبعیت کے ہیں اور اپنی کمزوری سے خائف ہیں اور استعفے کی آڑ میں اپنی کمزوری ڈھانپتا چاہتے ہیں۔واقعہ کے دو مہینے بعد استعفی دیے کے متعلق سوچنا مجھے یہ ان کی خودداری کے متعلق کوئی خوشگوار اثر پیدانہ کر سکتا تھا۔اس مرتبہ بھی یہی صورت پیدا ہوئی۔مٹر یادو اور میں پس کی گفت و شنید کے بعد مفاہمت کے قریب پہنچ گئے